انڈیا اور پاکستان کے رشتوں میں اعتبار کی ایسی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت مختلف دعوے کر رہے ہیں

انڈیا اور پاکستان کے رشتوں میں اعتبار کی کچھ ایسی کمی ہوجائے گی یہ کبھی سوچا نہ تھا۔

اوڑی میں بریگیڈ ہیڈکواٹر پر حملہ ہوا تو انڈیا نے فوراً کہا کہ آپ نے کیا ہے، پاکستان نے کہا کس بارے میں بات کر رہے ہو بھائی، جو بھی ہوا ہے ہم نے نہیں کیا۔

پھر انڈیا نے کہا کہ ہم نے لائن آف کنٹرول پار کرکے دہشتگردوں کے کئی ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا ہے، پاکستان نے کہا بھائی صاحب، آپ نے نہیں کیا، آپ تو ادھر آئے ہی نہیں!

اس کے بعد پاکستان میں ٹی وی چینلوں پر ایک فلم دکھائی جانے لگی، دعویٰ یہ تھا کہ اس میں کئی ہندوستانی فوجیوں کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، انڈیا نے کہا کہ بھائی، آپ نے نہیں کیا، یہ فلم صرف بلیک پروپیگنڈا ہے!

پروپیگنڈا تین طرح کا ہوتا ہے، بلیک، گرے اور وائٹ۔ تھوڑی ریسرچ سے معلوم ہوا کہ وائٹ پروپیگنڈا سب سے اچھا ہوتا ہے، اس میں جھوٹ یا غلط بیانی نسبتاً سب سے کم ہوتی ہے، اور بلیک سب سے خراب، اس میں جو نظر آتا ہے وہ نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔ اب حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں، ایسے میں بلیک پروپیگنڈے سے کم میں اوسط کہاں پورا ہوگا۔

یہ ویڈیو کہاں سے آئی، کس نے اور کب بنائی کہنا مشکل ہے لیکن کم سے کم ایک ْبڑے اخبار کی ویب سائٹ پر میں نے پڑھا کہ ہندوستان فوج کے ذرائع نے اس ویڈیو کو فرضی بتاتے ہوئے پاکستانی چینلوں سے اسے نشر نہ کرنے کیی اپیل کی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ پاکستانی چینل ہندوستانی فوج کے 'ایڈیٹورئل ججمنٹ' پر کتنا اعتبار کرتے ہیں لیکن تلخی کے اس ماحول میں لگتا نہیں کہ انھوں نے اس اپیل پرکان دھرے ہوں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ کسی چینل کی ادارتی مٹینگ چل رہی ہے اور سرحد پار فوج کا کوئی افسر کہہ رہا ہو کہ بھائی یہ بہت نازک ماحول ہے، خبریں چلانے سے پہلے اچھی طرح تصدیق کر لینا!

جہاں تک خبروں کی تصدیق کا سوال ہے انڈیا میں دفاعی امور کے ماہر صحافی پروین سوامی کی خبروں کو کافی معتبر مانا جاتا ہے، انھوں نے سرجیکل سٹرائکس کے بارے میں انڈین میڈیا میں چلنے والی خبروں کے بارے میں ٹوئیٹ کیا تھا کہ’ایک وقت تھا کہ صحافی خبروں کی تصدیق کرنے کے لیے سوال پوچھتے تھے، اچھا ہوا کہ وہ برا وقت گزر گیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان نے انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کیا

بہرحال، ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں میں صحافت کا معیار گرا ہوا، لیکن سیاست کا نہیں۔

ہندوستان اور پاکستان پہلے اس بات پر لڑتے تھے کہ آپ نے کیا ہے، اب اس پر لڑ رہے ہیں کہ آپ نے نہیں کیا! یہ ہی دو میچور امن پسند جوہری طاقتوں کی نشانی ہوتی ہے، ورنہ کوئی دو دوسرے کم سمجھدار ملک ہوتے تو اتنی ہی بات پر جنگ چھڑ جاتی۔