بارہمولہ میں انڈین فوجی کیمپ پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زخمیوں میں دو فوجی اور مزید ایک بی ایس ایف اہلکار شامل ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی قصبہ اوڑی میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حملے میں 19 ہلاکتوں کے دو ہفتے بعد اتوار کی شب انڈین فوج کے ایک اور کیمپ پر ایک فدائی حملے میں بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو دو روزہ دورے پر لداخ پہنچنے کے بعد انڈین وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہماری فوج کے جوان ایسے واقعات کا منھ توڑ جواب دے رہے ہیں۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے جان باز پورہ میں ہونے والے اس حملے کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔

انڈین فوج کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی ضلع بارہمولہ کے علاقے جان باز پورہ میں واقع فوج کے کیمپ کی بیرونی دیوار کے قریب مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کی تاہم وہ کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

مقامی پولیس کےمطابق تصادم کے دوران انڈیا کی سرحدی حفاظتی فورس یعنی بی ایس ایف کا ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ زخمیوں میں دو فوجی اور بی ایس ایف کا ایک اہلکار شامل ہیں۔

بارہمولہ کے سینئیر پولیس سپرنٹنڈنٹ امتیاز حسین نے پیر کو میڈیا کو بتایا ہے کہ دو سے چار دہشت گردوں نے سرحد سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک کیمپ پر حملہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا ماحول ہے

ایس ایس پی امتیاز حسین کے مطابق' کیمپ کے ارد گرد کی بستی کو دیکھتے ہوئے فوج کو کارروائی میں مشکل پیش آئی اور اگر فوج تیزی سے کارروائی کرتی تو شہریوں کے جانی نقصان کا خدشہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسند مکانات کی آڑ لیتے ہوئے فرار ہو گئے جبکہ حملے کے بعد ارد گرد کے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی حملے کے جواب میں انڈین فوج کی طرف سے ’سرجیکل سٹرائیک‘ کے دعوے کے چار روز بعد ہوا ہے۔

جموں کے اودھم پور ضلع میں تعینات انڈین فوج کی شمالی کمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں نے فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اور حزب مخالف نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ نے بارہمولہ میں موجود پارٹی کارکنوں کے حوالے سے ٹویٹ کیا ہے کہ ضلع میں مسلح حملے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

حملے کی زد میں آنے والے فوجی کیمپ اور دو ہفتے قبل ہونے والے اُوڑی حملے کے مقام کے درمیان پچاس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کیمپ کے قریب ہی بی ایس ایف کا ایک کیمپ بھی ہے۔

جان باز پورہ بارہمولہ قصبہ کے وسط میں اُن پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے جن کی دوسری جانب پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کا علاقہ ہے۔ جان باز پورہ کے رہائشی عرفان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’میں نے زندگی میں اس قدر خوفناک فائرنگ نہیں سُنی۔ ہم سب سہم کر رہ گئے اور پورا قصبہ گولیوں کی آوازوں سے خوف زدہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیال رہے کہ یہ حملہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی حملے کے جواب میں انڈین فوج کی طرف سے کی گئی 'سرجیکل سٹرائیک' کے دعوے کے چار روز بعد ہوا ہے

واضح رہے کہ اوڑی حملے کے فوراً بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی اور سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جس میں اس وقت اضافہ ہوا جب انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کرنے کا دعویٰ کیا۔

تاہم پاکستان انڈیا کی جانب سے کسی ایسی کارروائی کی تردید کر رہا ہے۔

اوڑی حملے اور انڈیا کی مبینہ جوابی کارروائی کی گونج واشنگٹن سے چین تک سنائی دی ہے اور عالمی برادری نے دونوں ممالک کو تحمل کی تلقین کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں