رئیس جمہور کی ضیافتیں

راشٹر پتی بھون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راشٹر پتی بھون نامی یہ عمارت ہندوستان کے صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ ہے اور یہ دہلی میں واقع ہے

جب نئي نئی بمبئی سے دہلی پہنچی تھی تو راج پتھ پر کھڑی رئیس جمہور کی کشادہ اور وسیع عمارت کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میں رہی کھانے پینے کی شوقین، بس یہی سوال ذہن میں ابھرا کہ اس وسیع عمارت کا باورچی خانہ کس قدر بڑا ہوگا۔ کتنے باورچي اور خدمت گار یہاں کام کرتے ہوں گے اور سارے کھانے کون کون کھاتے ہوں گے۔

سال بھر پہلے قسمت نے یاوری کی اور اپنے تخیل کو عملی جامہ پہنانے کا اس وقت موقع ملا جب مجھے اور لز (یعنی الزبتھ کولنگھم) کو 'اراؤنڈ انڈیاز فرسٹ ٹیبل' نامی ایک کتاب لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 138 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ لیکن یہ ایک دلچسپ اور معلوماتی سفر تھا۔

سنہ 1912 سے اب تک اس موضوع پر کوئي کتاب نہیں لکھی گئی تھی، نہ ہی ان تبدیلیوں کا کہیں ذکر ہوا تھا جو اس عمارت میں وقوع پزیر ہوئی تھیں۔

سنہ 1912 میں جب انگریزوں نے اپنا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کیا تو وہاں کا ساز و سامان مع باورچیوں اور خدمت گاروں کے اس وسیع اور کشادہ عمارت میں منتقل ہو گيا اور اس عالیشان عمارت میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔

انگریز وائس رائے اور اس کے عملے نے یہاں کے انتظام میں لندن کے بکنگھم پیلس کی نقل کی۔ تقریبا 500 خدمت گاروں کا عملہ وائس رائے کے خاندان اور ذاتی مہمانوں کی خدمت کے لیے مامور تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راشٹر پتی بھون میں منعقدہ ایک ڈنر کا منظر

اس وسیع عمارت کا باورچی خانہ عمارت کی نچلی منزل میں تھا، جہاں ایک وسیع کمرے چولھے دہکتے تھے۔ ایک طرف بیکری تو دوسری طرف شراب کا ذخیرہ تھا، ساتھ کے کمروں میں رسد رکھنے کا انتظام تھا۔

کھانا لمبی لمبی بھٹیوں پر پکایا جاتا۔ کیک، پیسٹری اور پائی بنانے کے لیے ایک ٹھنڈا کمرہ تھا جس کا درجۂ حرارت کیک اور پیسٹری بنانے کے لیے موزوں تھا۔

کھانا نہ ہندوستانی تھا نہ انگریزی بلکہ نئے حکمراں فرانسیسی کھانوں کے شوقین تھے اور ان کے ساتھ آنے والے باورچی اس فن کے استاد تھے۔ لارڈ ریڈنگ نے لارڈ ارون کو بطور خاص ہدایت کی تھی کہ ہندوستان میں انگریز خدمت گاروں کی تعداد بے حد کم رکھی جائے۔

وقت تیزی سے آگے بڑھتا گیا اور رفتہ رفتہ اس وسیع عمارت کے انتظام میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ عمارت رئیس جمہور کی رسمی عمارت بن گئی اور ہر رئیس جمہور کے تقرر کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔

ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل راج گوپال آچاریہ ایک سیدھے سادے انسان تھے اور انھوں نے سب سے پہلے اپنا ذاتی باورچی خانہ شروع کیا، جہاں انھیں باورچی اور خدمت گار تو میسر تھے لیکن کھانا بالکل ہندوستانی تھا جو ان کا اپنا باورچی بنایا کرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ ضیافتیں دو ممالک کے درمیان رشتوں کی عکاسی کرتی ہیں

یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ ہر رئیس جمہور کا ذاتی باورچی ہوتا ہے جو ان کے ذوق اور مزاج کے مطابق کھانا بناتا اور پیش کرتا ہے۔ یوں انگریز اور فرانسیسی کھانے رسمی ضیافتوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ لیکن یہ سلسلہ بھی ایک عرصے کے بعد ختم ہو گيا۔

انگریز بہادر کے عہد کا مفصل حال دریافت کرنا بے حد مشکل کام تھا اور قلمی دستاویز یا کسی کتاب کی عدم موجودگی میں یہ بہت مشکل امر تھا لیکن پرانے باورچی اور بٹلر کی مدد سے کام قدرے آسان ہو گيا اور دلچسپ تفصیلات اور مواد ہاتھ آ ہی گيا۔

کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے۔ رسمی ضیافتیں، وائسرائے کا دسترخوان، جنگ آزادی اور اس کا اثر، رئیس جمہور کی رسمی دعوتیں، ہندوستان کے اپنے ذائقے۔

رسمی ضیافتوں کا انتظام ایک مشکل مرحلہ ہے جہاں نہ صرف دسترخوان کی اہمیت بلکہ ہندوستان کی عظمت بھی شامل حال ہے۔ ضیافتی کمرہ ایک وسیع کمرہ ہے جہاں رئیس جمہور بیرون سے آنے والے مہمانوں کی پذیرائی کرتے ہیں اور انھیں ہندوستان کی تہذیب اور ذائقوں سے آشنا کرتے ہیں۔

آزادی کے بعد رسمی ضیافتوں کا دسترخوان ہندوستان کے لذت سے بھرپور کھانوں سے سجنے لگا اور صدر عبدالکلام نے مہمانوں کی سہولت کے لیے یہ ہدایات جاری کیں کہ رسمی ضیافت میں مہمان کے اپنے ملک کے دو پکوانوں کا اضافہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ رئیس جمہور کے اپنے منطقے اور علاقے کے ذائقے بھی شامل کیے جائیں۔ آہستہ آہستہ ہندوستان کے ہر علاقے کے ذائقے رسمی ضیافتوں کا حصہ بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راشٹرپتی بھون کا مطبخ

رسمی ضیافتوں میں خدمت گار کا کام مہمانوں کی دیکھ بھال، کھانوں کی پیشکش، کمرے کی سجاوٹ، موسیقی، شمعدانوں اور گلدانوں کا انتخاب، سرخ اور سبز بتیوں کا انتخاب وغیرہ شامل ہیں۔

کھانا سوپ یا شوربے سے شروع ہوکر شیرینی پر ختم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی قہوہ یا کافی کا دور بھی چلتا رہتا ہے۔ کھانا مختلف کورسز میں پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے سوپ، پھر کباب یا اسی طرح کی کوئی چیز۔ اس معاملے میں خدمت گار کی مدد کے لیے دروازے پر لگی سرخ اور سبز بتیوں کا استعمال ہوتا ہے۔سبز پر کھانا شروع اور سرخ پر ختم۔

یہ رسمی ضیافتیں سیاست کا ایک اہم حصہ ہیں، جہاں رئیس جمہور سے ملاقاتاتیں ہلکی پھلکی باتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ سیاست کے داؤ پیچ کا یہاں گزر نہیں۔ یہ رسمی دعوتیں صرف دو ممالک کے درمیان دوستی کا پیغام ہیں اور ہندوستان کی تہذیب سے آشنائی ہے۔ رسمی ضیافت کے مہمان ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہندوستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

اسی بارے میں