جائیں تو جائیں کہاں؟

Image caption محلے میں کھولے جانے والے ان سکولوں میں زیادہ تر وہ بچے آتے ہیں جن کی خود پڑھنے لکھنے میں زیادہ دلچسپی ہے

’ننھی منیزہ پڑھنا چاہتی ہے لیکن ہڑتالوں اور کرفیوں کے اس موسم میں وہ جائے تو جائے کہاں؟

منیزہ کی عمر چھ سات برس ہے، اسے خاص طور پر ’سائنس‘ پڑھنے کا شوق ہے لیکن کشمیر میں کبھی کرفیو تو کبھی علیحدگی پسندوں کی ہڑتالوں کی وجہ سے سکول تین مہینوں سے بند پڑے ہیں۔

اس لیے باقی دوسرے بڑے بچوں کی طرح اس کے والدین نے اسے بھی اپنے محلے کے نئے سکول میں بھیجنا شروع کردیا ہے، جہاں علاقے کے ہی کچھ ٹیچروں نے آپس میں ملکر بچوں کو پڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

*کشمیر کشیدگی، جنازہ، جنگی تیاری اور تعلیم

ان میں سائنس کے ٹیچر یاور عباس بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس شورش کی وجہ سے ہمارے بچوں کا مستقبل برباد ہو، اس لیے ہم نے یہ سکول شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ بچے خود اپنی خوشی سے آتے ہیں، اور پڑھائی میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔۔۔انھیں اپنے سکولوں کے کھلنے کا انتظار ہے لیکن تب تک وہ ان رضاکارانہ کلاسز سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

Image caption اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس شورش کی وجہ سے ہمارے بچوں کا مستقبل برباد ہو، اس لیے ہم نے یہ سکول شروع کرنے کا فیصلہ کیا

اس طرح کے سکول جگہ جگہ محلوں میں چلائے جا رہے ہیں، کہیں مساجد میں کہیں لوگوں کے گھروں میں۔ پڑھانے والے سب پیشے سے ٹیچر ہیں اور یہاں زیادہ تر وہ بچے آتے ہیں جن کی خود پڑھنے لکھنے میں زیادہ دلچسپی ہے لیکن پھر بھی سکول کا کورس پورا نہیں ہو پا رہا۔

زرگہ 12ویں کلاس میں پڑھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ہم مہینوں سے گھروں میں بند تھے، یہاں آ کر ہم جتنی پڑھائی کر لیتے ہیں اتنی گھر پر نہیں ہو پاتی تھی، لیکن پھر بھی کورس پورا نہیں ہو پا رہا۔ یہاں ٹیچر بہت اچھے ہییں، بہت محنت سے پڑھاتے ہیں لیکن سکول بند ہونے کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان ہو رہا ہے۔

جو بچے پروفیشنل کورسز کے لیے تیاری کر رہے ہیں، ان کا کریئر داؤ پر لگا ہوا ہے۔

فیضان ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہےکہ وہ تین مہینے سے کوچنگ کے لیے نہیں جاسکے ہیں۔ ’میرے والد کے ایک دوست یہاں فزکس پڑھاتے ہیں، انھوں نے ہی مجھ سے کہا کہ تم یہاں آنا شروع کردو۔۔۔جب سے ہڑتال شروع ہوئی ہے پڑھائی کا بہت نقصان ہوا ہے۔‘

یہاں زیادہ تر لڑکیاں آتی ہیں کیونکہ کبھی کرفیو اور کبھی ہڑتالوں کے اس ماحول میں ماں باپ لڑکیوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔

Image caption 12ویں جماعت کی طالبہ زرگہ کہتی ہیں ہم مہینوں سے گھروں میں بند تھ

یہاں مفت میں پڑھانے والے ٹیچر کہتے ہیں کہ وہ صرف اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ اردو کے ٹیچر سیعد ندیم بھی ان میں شامل ہیں۔

’اتنے مشکل حالات میں اگر کسی کو کچھ دیا جائے تو انسان کے دل کو سکون ہی ملتا ہے۔ مجھے پڑھانا اچھا لگتا ہے کیونکہ اس سے مجھے یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میں اس مشکل وقت میں قوم کے لیے کچھ کر رہا ہوں۔‘

کشمیر میں بورڈ کے امتحانات کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ مجھ سے کسی نے کہا کہ شاید اس امید میں کہ ہڑتال ختم ہو جائے گی، کیونکہ کشمیریوں کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں: فصل کی کٹائی اور بچوں کی پڑھائی۔

لیکن فی الحال تو یہ بچے خود ہی اپنا مستقبل سنوارنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں