’اوڑی فوجی کیمپ حملے کے حوالے سے پاکستان کا مُنہ بند کرنے کے لیے ثبوت پیش کرنا ضروری'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اڑی کے فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں 19 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا کا الزام ہے کہ حملہ آور پاکستانی تھے

انڈیا میں حزب اختلاف کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کی جانے والی 'سرجیکل سٹرائیکس' کا ثبوت فراہم کرے تاکہ پاکستان کے اس دعوے کی قلعی کھل جائے کہ فوج نے لائن آف کنٹرول پار نہیں کی تھی۔

انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ فوج کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اوڑی کے فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں 19 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا کا الزام ہے کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔

ایل او سی پر کشیدگی برقرار، امریکہ کی پاکستان اور انڈیا سے تحمل کی اپیل

سرجیکل سٹرائیک یا سرحد پار فائرنگ؟

پاکستان اور انڈیا میں فوجی سطح پر رابطے جاری رہنا ضروری: امریکہ

حکومت نےگذشتہ جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ فوج نے لائن آف کنٹرول پار کر کے دہشت گردوں کے کئی ایسے ٹھکانوں کو تباہ کیا جہاں وہ ایل او سی پار کر کے انڈیا میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

دوسری جانب پاکستان شروع سے ہی اس دعوے کو مسترد کر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ ایل او سی پر گولہ باری ہوئی تھی جو کہ وہاں اکثر ہوتی ہے لیکن انڈین فوج اس کے زیر انتظام علاقے میں داخل نہیں ہوئی تھی۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے منگل کو کہا 'پارٹی کو فوج پر مکمل اعتبار ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ان کارروائیوں کے شواہد پیش کرے۔'

اس سے پہلے پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما سنجے نروپم نے کہا 'اس کارروائی پر دنیا بھر کے میڈیا اور پاکستان کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اس لیے حکومت کو اس کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنے چاہییں۔'

رندیپ سنگھ سورجے والا نے کہا 'اس طرح کی کارروائیاں تین مرتبہ کانگریس کے دور میں بھی ہوتی تھیں لیکن کبھی ان سے اس انداز میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی جیسے اب کی جا رہی ہے۔'

سنجے نروپم نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ کارروائی فرضی نظر آ رہی اور وہ ثبوت فراہم کیے جانے کے بعد ہی اس پر یقین کریں گے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے رہنما فوج کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ اروند کیجریوال کا بیان پاکستان کے اخبارات کی سرخی بنا اور انھیں پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کرنی چاہیے تھی۔

لیکن کانگریس کے رہنماؤں اور اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ وہ 'پاکستان کے خلاف حکومت کے ساتھ ہیں لیکن پاکستان کا مُنہ بند کرنے کے لیے ثبوت پیش کرنا ضروی ہے۔'

کانگریس کے جنرل سیکریٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مشاہدین بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور ایسے حالات میں ہمیں فوج پر قوم کا اعتبار برقرار رکھنے کےلیے جو بھی ضروری ہو وہ کرنا چاہیے 'ورنہ فوج کا حوصلہ متاثر ہوگا۔'

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس کارروائی کی تصاویر ہیں۔ میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ اگر یہ تصاویر جاری کی جاتی ہیں تو پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور بڑھ جائے گی اور اس پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے دباٰؤ بڑھے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں