سرینگر میں اخبار ’کشمیر ریڈر‘ کی بندش، صحافیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صحافتی برادری نے اخبار کی بندش کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے

صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والے گروہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام پر پرتشدد واقعات کی خبریں شائع کرنے پر اخبار ’کشمیر ریڈر‘ پر پابندی لگانے کے حوالے سے تنقید کر رہے ہیں۔

کشمیر ریڈر ایک انگریزی اخبار ہے جسے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے انتشار کے بعد گذشتہ اتوار کو بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

ان گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صحافتی آزادی پر حملہ ہے۔

٭ سری نگر کے خاموش کیفے

٭ کشمیر کشیدگی، جنازہ، جنگی تیاری اور تعلیم

کشمیر میں رواں ماہ جولائی سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ کشمیر میں مظاہروں کی ابتدا برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہوئی تھی۔ کشمیر ریڈر چار برس پرانا اور معروف اخبار ہے جس کی اشاعت سرینگر سے ہوتی ہے۔

اخبار کے مدیر اعلیٰ نے بتایا کہ اتوار کو ان کے دفتر میں پولیس مقامی حکام کا ایک حکم نامہ لے کر آئی تھی جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اخبار کو شائع کرنا بند کر دیں۔ اس حکم نامے کے بعد اخبار نے پیر سے اشاعت بند کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخبار کے ایڈیٹر کو دیے جانے والے حکمنامے میں کہا گیا کہ اخبار کا مواد تشدد پر اکساتا ہے

'پیشگی نوٹس نہیں ملا'

میر ہلال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت نے نہ تو ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی کو پیشگی نوٹس دیا گیا۔ 'اگر مواد میں کچھ مسئلہ تھا تو وہ ہم سے وضاحت طلب کر سکتے تھے۔'

ان کا کہنا ہے کہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر ریڈر میں ’ایسا مواد ہے جو تشدد پر ابھارتا ہے اور نقصِ امن کا باعث بن رہا ہے‘۔

کشمیر میں45 سال پہلے ایک قانون بنا تھا جس کی رو سے ریاستی حکام کسی بھی ایسے اخبار کی اشاعت روک سکتی ہے جس میں ایسا مواد ہو جو تشدد پر اکساتا ہو۔‘

اس سے قبل مقامی انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں انٹرنیٹ سروسز اور اخبارات پر کچھ حد تک پابندی تھی۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی کشمیری حکام کے ان اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حکومت کی ڈیوٹی ہے کہ وہ صحافتی آزادی اور لوگوں کو اطلاعات کی رسائی حاصل کرنے کے حق کا احترام کرے۔

’یہ اخبار کو صرف تنقید کرنے پر بند نہیں کر سکتے۔‘

میر ہلال نے اخبار انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ انھیں حکومت نے 30 ستمبر کی شام اخبار بند کرنے کو کہا تھا۔

خیال رہے کہ جولائی میں غیر معمولی حالات میں عارضی اقدامات کے طور پر کشمیری حکام نے اخبارات پر تین روزہ پابندی عائد کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں