انڈین پنجاب: سرحدی علاقے خالی کرانے کا مطلب؟

پنجاب کے سرحدی علاقے سے نقل مکانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاستی حکومت کہتی ہے کہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر لوگوں کو منتقل کیا جا رہا ہے

انڈیا کے 'سرجیکل سٹرائیکس' کے دعوے کے بعد انڈین پنجاب میں سرحد سے ملحقہ علاقوں کو خالی کرائے جانے کے حکومتی فیصلے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت کی نیت پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گرو نانک دیو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر جگروپ سنگھ شیخوں اسے پنجاب اور دوسری ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے ونیت کھرے سے خصوصی بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ 'پاکستانی سرحد پر کسی طرح کی کشیدگی نہیں ہے۔ کوئی خوف کا ماحول نہیں، جنگ کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں گاؤں خالی کرانے کی کیا ضرورت ہے، یہ حکومت نہیں بتا رہی ہے۔‘

ریاستی حکومت کہتی ہے کہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر ایسا کیا جا رہا ہے لیکن مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر ریاستی حکومت نے کیوں کچھ نہیں پوچھا، سوال یہ بھی ہے۔

شیخوں کا کہنا ہے کہ 'انتخابات کے پیش نظر ایک طرح کا جنگی جنون پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک طرح کا جارحانہ قوم پرستی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ یہ انتخابات کی تیاری ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'دراصل مرکز اور ریاستی حکومتوں پر اعتماد پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے لیے مدعا نہیں ہے، لہٰذا وہ ایک نیا مسئلہ کھڑا کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیخوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے پیش نظر ایک طرح کا جنگی جنون پیدا کیا جا رہا ہے

پروفیسر شیخوں کا کہنا ہے کہ سرحد پر رہنے والے لوگ وقت سے پہلے ہی صورت حال کو بھانپ جاتے ہیں اور خود علاقہ چھوڑ دیتے ہیں۔

'سنہ 1965، 1971 اور پارلیمنٹ پر ہونے والے حملوں کے بعد جو صورتحال بنی تھی اس وقت بھی لوگوں نے گاؤں خالی کر دیے تھے۔ لیکن یہاں تو لوگ پرسکون ہیں اور حکومت خوفزدہ۔'

شیخوں نے سرحدی علاقوں کی بدحالی کے لیے آزادی کے بعد سے اب تک کی تمام حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا: 'پورے علاقے میں روزگار، ترقی، ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات، تعلیم اور دوسری چیزیں مہیا نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی حکومت نے علاقے کی ترقی پر توجہ ہی نہیں دی۔'

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 21 ہزار کسانوں کی کم سے کم 25 ہزار ایکڑ زمین سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کی زد میں آکر بیکار ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی علاقے ایسے بھی ہیں جو بارش کے موسم میں پورے ملک سے منقطع ہو جاتے ہیں۔ حکومت نے اس پر کچھ نہیں کیا اور اب انتخابات سے پہلے ایک مسئلہ کھڑا کرنا چاہتی ہے، جو ہے ہی نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں