انڈیا: اڑیسہ میں اینسفلائٹس بخار سے 30 بچوں کی موت

تصویر کے کاپی رائٹ SUBRATA KUMAR PATI
Image caption اس بیماری سے گذشتہ روز ہی پانچ بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر بچے ہسپتال لاتے وقت یا پھر ہسپتال لانے سے پہلے ہی چل بسے

انڈیا کی ریاست اڑیسہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملكان گری ضلعے میں جاپانی بخار اینسفلائٹس سے گذشتہ 27 روز میں تقریباً 30 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔

اس بیماری سے گذشتہ روز ہی پانچ بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر بچے ہسپتال لاتے وقت یا پھر ہسپتال لانے سے پہلے ہی چل بسے۔

اڑیسہ کے ضلع ملكان گری کے كركڈّا بلاک کے پوٹریل گاؤں میں رہنے والے ایک کسان ببی ٹاكری کی تین سالہ بیٹی جھانسی کی طبیعت شدید بگڑ گئی اور انھیں صبح ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن شام تک ہی ان کی موت ہو گئی۔

جھانسی کی طرح ہی ملكان گری کے مختلف علاقوں سے بھی مسلسل بچوں کی موت کی خبریں آ رہی ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت 100 سے زیادہ بچوں کا ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔

جس علاقے میں یہ جاپانی بخار پھیلا ہے وہ قبائلی علاقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں مکمل اور تفصیلی معلومات نہیں مل پا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUBRATA KUMAR PATI
Image caption اس ضلع کے رہنے والے غریب قبائلی گھروں میں عموما سور پالے جاتے ہیں اور تہوار یا کسی تقریب میں سور کا گوشت کھایا بھی جاتا ہے

ڈاکٹروں کے مطابق سور کے گوشت سے پھیلنے والی اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج نہیں مل پایا ہے۔

ماہرین کے مطابق ویکسینیشن ہی اس بیماری سے سے بچنے کا واحد موثر طریقہ ہے لیکن ابھی تک اس کا ویکسینیشن شروع نہیں ہو پایا ہے۔

2011 کے بعد سے ہر یہ بیماری ہر برس اس ضلعے میں پھیل رہی ہے۔ مقامی قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی بے توجہی کی وجہ سے بچوں کہ موت ہورہی ہے۔

اس ضلع کے رہنے والے غریب قبائلی گھروں میں عموما سور پالے جاتے ہیں اور تہوار یا کسی تقریب میں سور کا گوشت کھایا بھی جاتا ہے۔

ریاست کے وزیر صحت اور سیکرٹری نے اس متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا ہے۔

ادھر مرکزی وزیر صحت جے پی نڈڈا نے ریاست کو ہر طرح کی مدد مہیا کروانے اور اس وبا کی اچھی طرح سے جانچ کرنے کے لئے كے وزارت صحت کے افسران کو ہدایات جاری کی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں