مودی جوانوں کے خون کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں: راہل گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption راہول گاندھی ریاست اترپردیش میں فروری میں ہونے والے اسبملی انتخابات کے لیے کسان ریلی سے خطاب کر رہے تھے

انڈیا میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کا کہنا ہے کہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے جب 'جوانوں کے خون کی دلالی' کا لفظ کا استعمال کیا تو انھوں نے تمام حدود پار کر لی ہیں۔

امت شاہ نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہو سکتا ہے کہ راہول گاندھی اور کانگریس پارٹی کو وزیراعظم نریندر مودی پر اعتراض ہو لیکن ان کا یہ بیان تمام حدود پار کرنے والا ہے۔

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے ’سرجیکل سٹرائيکس‘ پر ہونے والی سیاست کے حوالے سے وزيراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 'جوانوں کے خون کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں اور ان کی دلالی کر رہے ہیں۔'

امت شاہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات کو دوسرے ملکوں میں پاکستان کی حمایت والا موقف بتایا گیا ہے۔

ریاست یو پی کے ضلع دیوریا سے شروع ہونے والی کسان ریلی کے دہلی پہنچنے کے موقع پر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ انڈین فوج نے انڈیا کا کام کیا ہے اور حکومت کو اپنا کام کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا: 'جو ہمارے جوان ہیں، جموں کشمیر میں جنھوں نے اپنا خون دیا ہے جنھوں نے انڈیا کے لیے سرجیکل سٹرائیکس کی ہیں۔ ان کے خون کے پیچھے آپ چھپے ہوئے ہو۔ اسی کی سودے بازی کر رہے ہو، یہ بالکل غلط ہے۔'

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کریں

انھوں نے کہا: 'انڈیا کی فوج نے انڈیا کا کام کیا ہے۔ آپ اپنا کام کیجیے۔ آپ انڈیا کے کسانوں کی مدد کریں۔ آپ انڈیا کی فوج کے لیے ساتویں پے کمیشن کے تحت پیسہ بڑھا دیجیے۔'

انڈیا میں بعض سیاسی رہنما سرحد پار سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے پر حکومت پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اور بعض نے تو اس سٹرائیک کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

کانگریس کے ایک لیڈر سنجے نروپم نے بھی اس مبینہ سرجیکل سٹرائیکس پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ سب فرضی باتیں ہیں۔ لیکن کانگریس پارٹی نے ان کے بیان سے کنارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرجیکل سٹرائیکس کے معاملے میں وہ انڈین فوج کے ساتھ ہے اور اس مسئلے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔

بعض دوسرے رہنما بھی اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ فوج نے جو کچھ بھی کیا اس کا مودی کی حکومت آئںدہ اسبملی انتخآبات کے پیش نظر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں