میانمار میں سرحدی چوکیوں پر حملہ، نو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کا خیال ہے کہ مونگ دہ نامی علاقے میں اتوار کے روز ہونے والے حملے کورڈینیشن کے ساتھ کیے گئے

میانمار کی ریاست راخین میں حکام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب پولیس کی سرحدی چوکیوں پر حملوں میں نو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ مونگ دہ نامی علاقے میں اتوار کے روز ہونے والے حملے کورڈینیشن کے ساتھ کیے گئے۔ پولیس کا موقف ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ملک میں اقلیتی برادری روہنگیا مسلمانوں سے تھا۔

راخین میں روہنگیا مسلمانوں اور بدھمت کے پیروکاروں کے درمیان کشیدگی کافی عرصے سے جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے ان حملوں میں متعدد حملہ آوروں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فرار ہونے والے حملہ آوروں نے چوکیوں سے 50 بندوقیں اور ہزاروں گولیاں چوری کر لی ہیں جبکہ وہ صرف چھریوں اور غلیلوں سے لیس تھے۔

2012 میں راخین ریاست میں نسلی فسادات کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہوگئے تھے۔

میانمار کے دارالحکومت میں پولیس کے سربراہ جنرل ذا ون نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے حملے کے دوران با آوازِ بلند کہا کہ وہ روہنگیا سے ہیں۔ تاہم انھوں نے کسی مخصوص روہنگیا گروہ کا نام یا حملے کی وجوہات نہیں بتائیں۔

راخین کی ریاستی حکومت کے اہم اہلکار ٹن مانگ سؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس حملے کی ذمہ دار 1980 اور 1990 کی دہائی میں سرگرم تنظیم روہنگیا سولیڈیرٹی آرگنائیزیشن (آر ایس او) ہے۔

حکومت کی جانب سے ماضی میں متعدد حملوں کا ذمہ دار آر ایس او کو ٹھہرایا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم کافی عرصے سے کام نہیں کر رہی۔

ادھر اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان ریاست راخین میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے بنائے گئے ایک تجویزی کمیشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔

میانمار میں بدھمت قوم پرست ملک میں موجود تقریباً 10 لاکھ روہنگیا کو بنگلہ دیشی دخل انداز تصور کرتے ہیں اگرچہ روہنگیا کئی نسلوں سے میانمار میں مقیم ہیں۔ میانمار کی حکومت روہنگیا کو ملک کی شہریت دینے سے انکار کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں