افغان طالبان لشکرگاہ میں داخل، خودکش دھماکے میں 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طالبان نے شہر کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا ہے

افغانستان کے صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ پر افغان طالبان نے بڑے حملہ کیا ہے جبکہ ایک خودکش حملے میں دس پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لشکرگاہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل شہر ہے اور اس کی آبادی تقریبا دو لاکھ تھا۔

طالبان نے شہر کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائی شہر پر دھاوا بولنے کی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

پیر کو لشکرگاہ میں ایک خودکش حملے میں دس پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سنہ 2014 میں نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا سے قبل یہ شہر طالبان اور نیٹو فوجوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے شہر کے مرکزی علاقے کے قریب بولان کے علاقے اور شہر کے داخلی علاقے ناوا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ایک مقامی سیاست دان نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان جنگجو گورنر کے احاطے سے دو کلومیٹر فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان نے شہر کے مرکزی علاقوں کے قریب لڑائی کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کو شہر کے نواحی علاقوں میں واپس دھکیل دیا گیا ہے۔

اگست میں صوبہ ہلمند میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر بہت سارے شہریوں نے علاقہ چھوڑ دیا تھا اور پیشتر نے لشکرگاہ میں پناہ حاصل کی تھی۔

لڑائی کے باعث حکام کی جانب سے شہر کا ہوائی اڈہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا جل مکگورنگ کا کہنا ہے کہ اس شہر کا طالبان کے ہاتھوں میں جانا حکومتی فوجوں اور بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے 'علامتی المیہ' ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں