انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی تازہ جھڑپ نے طول کیوں پکڑا ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس ادارے پر پہلے بھی شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپ ہو چکی ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ پام پور کے زعفرانی کھیتوں کے درمیان واقع جس سرکاری عمارت میں مسلح شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے وہ دراصل تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صنعتی تربیت اور رہبری کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ہے۔

یہاں اس سال فروری میں بھی مسلح شدت پسندوں نے فوج، پولیس اور دوسری فورسز کو 48 گھنٹوں تک تصادم میں الجھائے رکھا۔

اُس وقت انڈین فضایہ کے ہیلی کاپٹرز اور فوج کے خصوصی پیرا کمانڈوز بھی آپریشن شامل ہوئے۔ 48 گھنٹوں کی جھڑپ کے بعد چار شدت پسند مارے گئے تھے لیکن تین ایلیٹ کمانڈوز کی ہلاکت پر فوج کی سخت تنقید کی گئی۔

اُس واقعہ پر دس ماہ گزر چکے ہیں۔ 40 ہفتوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ کشمیر میں بی جے پی کی حمایت سے محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ بن گئیں۔ کشمیر میں مسلح رہنما برہان وانی کی پولیس آپریشن میں ہلاکت سے برپا ہوئی انڈیا مخالف احتجاجی تحریک چوتھے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

اُوڑی میں فوجی ٹھکانے پر مسلح حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کدورت پائی جاتی ہے۔ سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بھارت میں قومی سلامتی کے حوالے ہمہ وقتی الرٹ ہے اور خفیہ ادارے مثالی چوکسی برت رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں جولائی سے احتجاجی تحریک جاری ہے

اس انتہائی حساس ماحول میں ہی 10 اکتوبر کی صبح مسلح شدت پسندوں نے دریائے جہلم پار کر کے پھر ایک بار اسی آنٹرپرینیور ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ یا ای ڈی آئی کے احاطے کو اپنی محدود جنگ کا میدان بنا لیا۔

30 کنال رقبہ زمین پر محیط ای ڈی آئی کی اصل عمارت تو فروری آپریشن کے دوران تباہ ہوگئی تھی۔ پیر کی صبح شدت پسندوں نے ادارے کے ہوسٹل میں پناہ لے لی۔ پولیس ذرایع کے مطابق انہوں نے گراؤنڈ فلور میں آگ لگا دی تاکہ فوج کا داخلہ روکا جا سکے۔ جھڑپ تادم تحریر جاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کے مشترکہ دستے نے معمول کے برعکس عمارت کو بارود سے کیوں نہیں اُڑایا؟

مبصرین کہتے ہیں کہ 29 ستمبر کی مبینہ سرجیکل سٹرائیکس سے کشمیر میں ہونے والی ایسی جھڑپوں کا پروفائل ہی بدل گیا ہے۔ پہلے تو ایسی کوئی بھی جھڑپ بھارتی ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کی جاتی تھی اور آناً فاناً چند گھنٹوں میں حملہ آوروں کا قصہ تمام کیا جاتا تھا۔ اب کی بار ٹی وی چینلوں نے مسلح مقابلوں کو لائیو ٹیلی کاسٹ سے نہ صرف اجتناب کیا بلکہ اس کے پس منظر اور پیش منظر پر روایتی لہجہ میں تجزیوں کے انبار بھی نہیں لگائے۔

ایک اور بات اہم ہے کہ گذشتہ دس روز میں یہاں کُل ملا کر ایسے تین فدائی حملے ہوئے، جن میں فوج کے مطابق ایک نیم فوجی جوان ہلاک اور سات شدت پسند مارے گئے۔ جنوبی کشمیر میں پولیس تھانے پر فائرنگ اور نیم فوجی گشتی دستے پر بم حملے بھی ہوئے، لیکن سرجیکل سٹرائیکس کے بعد صرف فدائی حملوں کو تذویراتی اہمیت دی جا رہی ہے۔ چونکہ سرجیکل سٹرائیکس 18 ستمبر کو اُوڑی کے فوجی ٹھکانے پر ہوئے مسلح حملے میں 19 فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیا گیا تھا، ایسا کوئی بھی نیا واقعہ انڈیا کی نیشنل سکیورٹی قیادت کے لیے ایک چیلینج بن کے اُبھرتا ہے۔

دفاعی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پام پور کے ای ڈی آئی کمپلیکس میں چھپے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن اس لیے نہایت محتاط ہے، کیونکہ فوج کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا تو نریندر مودی پر ایک اور سرجیکل سٹرائیکس کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ کشمیر اور پاکستان کے امور پر اکثر مباحثوں میں بولنے والے فوج کے ریٹائرڈ جنرل عطاء حسنین نے ٹویٹ کیا ہے :'اس بار کی جھڑپ میں جارحانہ اپروچ اختیار نہیں کرنا ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف دھواں ہی کافی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ دس روز میں یہاں ایسے تین فدائی حملے ہوئے، جن میں فوج کے مطابق ایک نیم فوجی جوان ہلاک اور سات شدت پسند مارے گئے۔

عالمی تعلقات اور تاریخ کے طالب علم خورشید احمد کہتے ہیں: 'ہم تو کہتے تھے کہ جوہری ہتھیار جنگ کے خلاف ایک سُرخ سرحد ہے۔ لیکن سرجیکل سٹرائیکس نے یہاں ہونے والی جھڑپوں کے دوران فوج کی حکمت عملی کو بھی تبدیل کر دیا۔ پام پور میں اب فوج نہایت ضبط سے کام لیتی ہے۔ سرجیکل سٹرایئکس نہ ہوئی ہوتی تو ہوسٹل کی عمارت زمین بوس ہو چکی ہوتی۔'

سرجیکل سٹرائیکس کا قضیہ تو ابھی جاری ہے، لیکن زمینی سطح پر کشمیر میں جاری مسلح شورش سے نمٹنے کے لیے فوج اب ایسی حکمت عملی پر آمادہ ہے، جس میں فوج کو جانی نقصان نہ اُٹھانا پڑے، کیونکہ کوئی فوجی مارا گیا تو حکومت ہند پر انتقامی کارروائی پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

اسی بارے میں