ایران میں شوہر کو قتل کرنے والی خاتون کو پھانسی دینے کا خدشہ

Zeinab Sekaanvand تصویر کے کاپی رائٹ Private
Image caption زینب سکاوند اس وقت 17 برس کی تھیں جب ان کے شوہر کی ہلاکت ہوئی

انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران میں اپنے شوہر کو قتل کے الزام میں سزا پانے والی 22 سالہ خاتون کو جلد پھانسی دے دی جائے گی۔

زینب سخاوند کے جیل میں حاملہ ہونے کی وجہ سے ان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

زینب سکاوند کا موقف ہے کہ اس نے پرتشدد شوہر سے خلع پانے میں ناکامی کے بعد اسے چھری کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

زینب سکاوند نے جیل میں ایک شخص سے شادی کر لی جس سے وہ حاملہ ہو گئی تھی۔

گذشتہ ہفتے زینب سکاوند کے ہاں مرے ہوئے بچے کی پیدائش ہوئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زینب سکاوند کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش کی وجہ وہ ذہنی صدمہ تھا جو اس کے بچے کی پیدائش سے دو روز پہلے جیل میں اپنے ساتھی کو پھانسی دیے جانے سے پہنچا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زینب سکاوند کو 13 اکتوبر کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

ایمنٹسی انٹرنشیل کا کہنا ہے کہ زینب سکاوند کا تعلق ایک غریب کرد گھرانے سے ہے اور اس نے 15 برس کی عمر میں گھر سے بھاگ کر اپنے پہلے شوہر حسین سرمادی سے شادی کی تھی۔

زینب سکاوند کا کہنا تھا کہ حسین سرمادی سے شادی کی وجہ بہتر حالات کو خواہش تھی لیکن شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس کے شوہر نے اسے تواتر کے ساتھ تشدد کانشانہ بنا شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زینب سکاوند کو 13 اکتوبر کو پھانسی دی جا سکتی ہے

زینب سکاوند کا کہنا ہے کہ اس نے بارہا پولیس سے اپنے شوہر کے رویے کے بارے میں شکایت کی لیکن پولیس نے ایک بار بھی ان کی شکایت کی تحقیق نہیں کی۔

زینب سکاوند نے شوہر کے تشدد سے تنگ آ گر جب اس شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا تو اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیا۔ جب زینب نے شوہر کو چھوڑ کر والدین کے پاس واپس جانے کی کوشش کی تو والدین نے اس بنا پر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ پہلے گھر سے بھاگ گئی تھی۔

زینب سکاوند اس وقت 17 برس کی تھیں جب ان کے شوہر کی ہلاکت ہوئی۔

پولیس نے زینب کو گرفتار کر کے کئی ہفتے تھانے میں رکھا جہاں اس نے مبینہ طور پر شوہر کے قتل کا اعتراف کیا۔

زینب سکاوند کا مقدمہ جب مغربی آذربائیجان کی عدالت میں پہنچا تو وہ پولیس کو دیے گئے اعترافی سے منحرف ہو گئیں اور عدالت کو بتایا کہ قتل دراصل اس کے شوہر کے بھائی نے کیا تھا۔

زینب سکاوند نے عدالت کو بتایا کہ اس نے شوہر کے قتل کا اعتراف شوہر کے بھائی کے اس وعدے کی بنا کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر اسے سزا دی گئی تو وہ اسے معاف کر دے گا۔

ایران میں رائج اسلامی قانون مقتول کے رشتہ داروں کو قاتل کو معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں