'ہزاروں دلت ہندو سے بدھ ہو گئے‘

بدھ مت کی تقریب تصویر کے کاپی رائٹ PRASHANT DAYAL
Image caption یہ تقریب بھیم راؤ بابا صاحب امبیڈکر کی تبدیلئي مذہب کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں بدھ مت کے پیروکاروں نے دعوی کیا ہے کہ منگل کو بڑی تعداد میں دلتوں نے بدھ مت قبول کیا ہے۔

گجرات کے بعض شہروں اور دیہی علاقوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دلتوں کے خلاف مبینہ تشدد اور مظاہروں کے بعد دلتوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

منگل کو گجرات کے تین بڑے شہروں احمد آباد، كلول اور سریندرنگر میں ہونے والے 'بدھ پرورتن' (بدھ مت میں داخل ہونے کی رسم) اجتماعات میں بہت سے دلتوں کو بدھ مت میں شامل کیا گیا ہے۔

ان اجتماعات کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تقریباً دو ہزار دلتوں نے بدھ مت قبول کیا ہے۔

ان میں سے ایک تقریب میں بدھ مت اختیار کرنے والے ایم بی اے کے طالب علم مولک چوہان نے بتایا: 'بچپن سے میں سوچتا تھا کہ ذات پات کے رواج سے مجھے کب نجات ملے گی۔ اونا سانحے کے بعد میں نے طے کر لیا کہ اب ہندو مذہب ترک کر مجھے بدھ مذہب کی تعلیم لینی ہے کیونکہ اس میں سب برابر ہیں۔'

خیال رہے کہ چند ماہ قبل گجرات میں ویراول کے اونا گاؤں میں جانوروں کی کھال نکالنے والے کچھ دلت نوجوانوں کو پولیس کی موجودگی میں بری طرح مارا پیٹا گيا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پورے گجرات میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

احمد آباد، سریندرنگر اور كلول میں گجرات بدھ مت مہا سبھا اور گجرات بدھ مت اکیڈمی نے بدھ مت کی تعلیم و تربیت پر اجتماع کا اہتمام کیا تھا۔

كلول میں 'دیکشا' یعنی تربیتی تقریب کا اہتمام کرنے والے مہندر اپاسک نے بتایا: 'آپ اس تبدیلئی مذہب کی تقریب کو اونا سانحہ سے جوڑ کر نہیں دیکھ سکتے۔ پھر بھی ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر تمام دلت بدھ مت کے پیرو ہوتے تو اونا کا واقعہ پیش نہ آتا۔ ہمارا مقصد یہی ہے کہ ہم ذات پات کے رواج سے نجات دلانے کے لیے بدھ مت کی تعلیم دیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PRASHANT DAYAL
Image caption یہ تقریب بھیم راؤ بابا صاحب امبیڈکر کی تبدیلئي مذہب کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے

اپاسک نے یہ بھی بتایا کہ تبدیلیِ مذہب کرنے والوں سے ان کی ذات نہیں پوچھی جاتی۔ لیکن وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تقریب میں شامل زیادہ تر لوگ دلت برادری سے ہیں۔

سرکاری ملازم ٹی آر بھاسکر نے بی بی سی کو بتایا: 'میں کئی سالوں سے بدھ مذہب سے متاثر تھا کیونکہ یہاں ذات پات کے نظام سے نجات مل جاتی ہے۔ جس طرح امبیڈکر نے بھی بدھ مت قبول کیا تھا اسی طرح میں نے بھی بدھ مت قبول کیا ہے۔'

خیال رہے کہ منگل کو دلتوں کے سب سے بڑے رہنما بابا صاحب امبیڈکر کی تبدیلیِ مذہب کا دن 'یوم دھما چکر پرورتن' تھا۔ 14 اکتوبر سنہ 1956 کو امبیڈکر نے اپنے چھ لاکھ حامیوں کے ساتھ بدھ مت قبول کیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہوں۔

گجرات بی جے پی کے ریاستی ترجمان بھرت پانڈیا نے بی بی سی کو بتایا: 'انڈیا میں کوئی بھی شخص کوئی بھی مذہب اپنا سکتا ہے پھر بھی اگر دلت ناراض ہو کر یا کسی کے کہنے پر بدھ مت میں داخل ہوتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر سب کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔'

گجرات بدھ مت اکیڈمی کے رمیش بینکر نے کہا: 'بدھ مت میں شمولیت کی تقریب کسی مذہب یا ذات کے خلاف نہیں ہے اور اس کا اونا سانحے کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ مذہب قبول کرنے والے تمام ہندو ہیں اور ذات پات کے رواج سے نجات چاہتے ہیں۔'

گجرات کے سینیئر صحافی راجیو پاٹھک نے بتایا کہ 'اونا سانحے کی ویڈیو نے گجرات میں دلتوں کی پوزیشن کو اجاگر کیا ہے۔ دوسری طرف دلتوں میں بھی اپنے حق کے بارے بیداری آئی ہے۔ ایسے میں اگر وہ بدھ مت قبول کرتے ہیں تو یہ فطری ہے۔ بہر حال یہ دلتوں کا بدھ مت قبول کرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں