انڈیا: مسلم تنظیمیں متحد ہو کر سول کوڈ کی مخالفت کریں گی

انڈین مسلم
Image caption مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں متحد ہیں اور قانونی اور جہموری طریقے سے اس کی مخالفت کریں گی

انڈیا میں مسلم پرسنل بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ لانے کی کوشش سے ملک میں خلفشار پیدا ہو گا اور وہ متحد ہو کر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کریں گی۔

اس سے پہلے بدھ کو لا کمیشن کی جانب سے ایک سوال نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں لوگوں سے ان کی رائے معلوم کی گئی ہے۔ اس سوال نامے کے ساتھ ایک اپیل بھی منسلک ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ان کمزور طبقوں کو انصاف دلوانا ہے جو تعصب کا شکار ہیں۔

لا کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ مجوزہ سول کوڈ کے خد و خال کے بارے میں ہر ممکنہ تجویز پر غور کرنا چاہتا ہے۔

انڈیا میں یکساں سول کوڈ کی تجویز انتہائی حساس موضوع ہے۔ اگرچہ دستور ہند میں یہ مشورہ شامل ہے کہ حکومت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن عام طور پر حکومتوں نے اس سمت میں ٹھوس پیش رفت سے گریز کیا ہے۔

پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ 'وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ملک میں آمریت لانا چاہتی ہے اور حکومت کی نیت خراب ہے۔۔۔ اس ملک میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ساتھ رہے ہیں اور انھوں نے ہمیشہ اپنے مذہبی قوانین پر عمل کیا ہے۔'

ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے یکساں سول کوڈ کا ذکر دوبارہ شروع ہوا ہے اور گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ وہ ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق کہہ کر شادی ختم کرنے کے طریقے کے خلاف ہے۔

طلاق کے اس طریقے کے خلاف سپریم کورٹ سے ایک مسلمان خاتون نے رجوع کیا تھا اور عدالت نے اس سلسلے میں حکومت سے اس کا موقف معلوم کیا تھا۔

Image caption آر ایس ایس جیسی ہندو نظریاتی تنظیموں کی جانب سے ایسے مسائل زیادہ اٹھائے جاتے ہیں اور مسلم تنظیمیں انھیں اپنے مذہبی امور میں مداخلت تصور کرتی ہیں

مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں متحد ہیں اور قانونی اور جہموری طریقے سے اس کی مخالفت کریں گی۔

انڈیا میں بعص مسلمان سماجی کارکنوں کا بھی کہنا ہے کہ پرسنل لا میں اصلاح کی ضرورت ہے اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ مطالبہ آر ایس ایس جیسی ہندو نظریاتی تنظیموں کی جانب سے زیادہ اٹھایا جاتا ہے اور مسلم تنظیمیں اسے اپنے مذہبی امور میں مداخلت تصور کرتی ہیں۔

لا کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ تمام مذاہب کے عائلی قوانین پر نظر ثانی کرے گا اور صلاح مشورے کا یہ سلسلہ 45 دن تک جاری رہے گا۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سوال نامہ جاری کر رہا ہے اور اس کے نتائج حکام تک پہنچائے جائیں گے۔

لا کمیشن کے سوال نامے میں اس طرح کے سوال پوچھے گئے ہیں کہ کیا ملک میں یکساں سول کوڈ لایا جانا چاہیے، ایک ہی نشست میں تین طلاقوں کی روایت کو ختم کردیا جانا چاہیے، اس میں ترمیم کی جانی چاہیے یا اسے جوں کا توں چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

اس میں عیسائیوں اور ہندؤں کے پرسنل قوانین کے بارے میں سوالات بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں