بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں پر بین الاقوامی تنظیموں میں تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption بریگیڈیئر اعظمی اپنے والد کی وفات پر میڈیا سے بات کر رہے ہیں

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے بنگلہ دیش کی حکومت کو کئی سال سے جبری گمشدگیوں کے بارے میں خبردار کیے جانے کے باوجود اس سال ملک میں ان واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

بنگلہ دیش میں اس سال کی اگست کی بائیس تاریخ کو سابق برگیڈیئر جنرل عبدل امان اعظمی کو سادہ کپٹروں میں ملبوس تیس سے زیادہ اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر اٹھا لیا تھا۔

سابق بریگیڈئیر کی رہائش گاہ کے ایک ملازم عبدالکلام آزاد نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد مسلح تھے اور وہ انھوں نے ایک ایک کر کے گھروں کے تمام کمروں کی تلاشی لینے شروع کر دی۔

سابق بریگیڈیئر اعظمی فوجی فلیٹ کی پانچویں منزل کے ایک کمرے میں چھپے ہوئے تھے۔

سابق بریگیڈیئر بنگلہ دیش کی حزب اختلاف کی بڑی پارٹی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رہنما غلام اعظم کے صاحبزاد ہیں۔ ان کے دو بیٹے جو جماعت اسلامی ہی کے رہنماؤں میں شامل تھے انھیں بھی دو ماہ قبل اٹھا لیا گیا تھا۔

جو لوگ بریگیڈیئر اعظمی کو اٹھانے آئے تھے انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بریگیڈیئر صاحب کی رہائش گاہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی ٹیپ بھی جاتے ہوئے ساتھ لے گئے۔

بنگلہ دیش کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ادھیکار اور آئین و ثالث کندرا جبری گمشدگیوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کر رہے ہیں اور ان کے اعداد و شمار کے مطابق صرف اس برس ساٹھ افراد پراسرار حالات میں گمشدہ ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب سات برسوں میں تین سو سے زیادہ افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ایک اخبار نویس ڈیوڈ برگمین کا کہنا ہے کہ ان میں نصف لوگ منظر عام پر آ گئے ہیں۔ ان میں چند خوش قمستوں کو خاموشی سے رہا کر دیا لیکن انھیں اپنی گمشدگی کے بارے میں کچھ کہنے سے باز رکھنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق گمشدہ افراد میں کم از کم پندرہ کو پراسرار طریقے سے ہلاک کیا جا چکا ہے۔

بنگلہ دیش کی انسانی حقوق کی تنظیمیں عوامی لیگ کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ سرکاری سکیورٹی فورسز کو استعمال کر کے اپنے مخالفین کو ختم کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بریگیڈیر اعظمی کے والد اور جماعت اسلامی کے رہنما غلام اعظم جنہیں سنہ 1971 میں مظالم کے الزام میں پھانسی دے دی گئی

بنگلہ دیش کے وزیر قانون انیس الحق کا کہنا ہے وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی جبری گمشدگی کے کیس میں ملوث نہیں ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کا کہنا ہے اُس نے متعدد بار بنگلہ دیش کی حکومت کو جبری گمشدگیوں کے کیسوں میں سکیورٹی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کروائیں۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے یادہانی کرائے جانے کے باوجود بنگلہ دیش کی حکومت نے اس بارے میں کوئی وضاحت یا جواب نہیں دیا ہے۔

اسی بارے میں