بھارت کے زیرانتظام کشمر کے شہر سرینگر میں جامع مسجد سو روز سے بند

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تقریباً 100روز سے جاری انڈیا مخالف احتجاجی تحریک کے دوران سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماعات پر بدستور پابندی ہے۔ کشیدگی کے دوران اکثراوقات دوسری اہم خانقاہوں اور درگاہوں پر تالے چڑھائے گئے، تاہم چودھویں صدی میں سلطان سکندد کی تعمیر کردہ جامع مسجد مسلسل بند ہے۔

وسط ایشیائی طرز تعمیر کا شاہکار یہ پُرشکوہ مسجد سرینگر کے وسط میں ناو ہاٹا علاقے میں واقع ہے، اور گزشتہ کئی صدیوں سے ظلم اور جبر کے خلاف کشمیری مزاحمت کی علامت کے طور پوری جموں کشمیر میں مشہور ہے۔ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق اسی مسجد میں ہر جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہیں۔ میرواعظ کو چشمہ شاہی کی ذیلی جیل میں قید کیا گیا ہے۔ یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دوسرے رہنما بھی مختلف جیلوں میں ہیں جبکہ سید علی گیلانی طویل عرصے سے گھر میں نظر بند ہیں۔ عید کے روز بھی نہ صرف جامع مسجد بلکہ قریبی حضرت بل علاقے کی مقبول عام درگاہ بھی مقفل رہی۔

12 اکتوبر کو یوم عاشورہ کے موقعہ پر بھی حکام نے شعیہ آبادی کے روایتی جلوسوں پر پابندی عائد کردی۔ کئی علاقوں میں عزاداروں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی جسکے بعد درجنوں عزاداروں کو گرفتار کیا گیا۔1989میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی حکام نے کشمیر میں عید میلاد اور عاشورہ کے جلوسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ ہر سال ان مواقع پر عقیدت مندوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوتے ہیں ، کیونکہ ان ایام پر حکام بستیوں کی ناکہ بندی کرتے ہیں اور اجتماع گاہوں کے ارد گرد کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔

سرینگر کے حسن آباد علاقے کے رہنے والے یاور عباس نے بتایا ’یہ تو مذہبی آزادی پر قدغن ہے۔ یہ تو خود بھارتی آئین کے خلاف ہے۔ لیکن یہاں نہ بھارتی آئین چلتا ہے، نہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین، یہاں جنگل راج ہے۔‘

طالب علم اصغرحسین کہتے ہیں ’ہر سال لاکھوں ہندو یاتری یہاں امرناتھ گھپا کے درشن کے لیے آتے ہیں۔ ماحولیات کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے، لیکن پھر پوری انتظامیہ یاترا کے انتظامات میں مہینوں پہلے جُٹ جاتی ہے۔ لیکن یہاں کے رہنے والوں کے مذہبی حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔‘

کشمیر کے عالم دین بشیرالدین حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ مفتی اعظم ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذہبی معاملات پر بے جا مداخلت کررہی ہے۔

واضح رہے 100روز سے کشمیر میں ہندمخالف احتجاج کے تحت معمول کی تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں بند ہیں۔ کشیدگی 8 جولائی کی شام مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی پولیس آپریشن میں ہلاکت کے بعد اُسوقت پیدا ہوگئی جب ان کے جنازے میں جانے والے ہزاروں لوگوں پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ احتجاج کو دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں اب تک 90 سے زیادہ افراد ہلاک اور بارہ ہزار زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں