افغان حکومت کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات نہیں ہو رہے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کا دوحہ آفس شروع سے ہی سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے۔

پریس ریلیز میں کہا کہ ’مذاکرات کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس بارے میں ہماری پالیسی بہت واضح ہے۔‘

یاد رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خلیجی ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں خفیہ بات چیت ہوئی ہے۔

افغان حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، البتہ طالبان نے ایک پریس ریلیز میں اس کی تردید کی ہے۔

ایک افغان اہلکار نے کہا کہ افغان انٹیلجنس کے سربراہ معصوم ستانکزئی اس میں شریک تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی قیامِ امن کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالمنان نے کی جو طالبان کے بانی امیر ملا عمر کے بھائی ہیں۔

اخبار کے مطابق ایک طالبان اہلکار نے امید ظاہر کی ہے کہ ملا عمر کے صاحبزادے ملا محمد یعقوب جلد ہی دوحہ میں افغان حکومتی وفد سے مذاکرات کرنے والے گروپ میں شامل ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان نے حالیہ دنوں میں ہلمند اور قندوز میں افغان افواج پر دباؤ بڑھایا ہے

طالبان کے ترجمان نے پریس ریلیز میں کہا کہ ’مذاکرات کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس بارے میں ہماری پالیسی بہت واضح ہے۔‘

تاہم گارڈین کے مطابق فریقین کے مابین مذاکرات کے دو دور ہوئے۔ بات چیت کا پہلا دور ستمبر کے اوائل میں ہوا جبکہ دوسرا دور اکتوبر میں ہوا۔ دی گارڈین کے مطابق مذاکرات کے دونوں ادوار میں کسی پاکستان اہلکار نے شرکت نہیں کی۔

بی بی سی پاکستان کے ایڈیٹر ہارون رشید کے مطابق ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلق کو دیکھتے ہوئے تو تاثر یہی ہے کہ پاکستان خود کو ان مذاکرات سے دور رکھے جانے پر زیادہ خوش نہیں ہو گا۔

’اس بات چیت سے تو یہی تاثر ملے گا کہ پاکستان کا اثر و رسوخ شاید ختم ہو گیا ہے اور طالبان یا افغانستان کو پاکستان کی اب ضرورت نہیں رہی، وہ خود آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے افغان مصالحتی عمل کے بارے میں سفارتی سطح پر کہتا رہا ہے کہ وہ افغان کی رہنمائی میں ہونے والے کسی بھی مذاکراتی عمل کی حمایت کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوحہ میں طالبان کی ترجمانی ہمیشہ اہم طالبان رہنماؤں نے کی ہے۔

’اہم تو یقیناً ہے اس طرح کا آمنے سامنے آنا اب تک ہم نے صرف مری میں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد سے جو تیزی سے تبدیلیاں آئیں ملا اختر منصور کی ہلاکت اور چار ملکی گروپ کی ناکام کوششیں سے اسے دھچکہ لگا ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ان مذاکرات اہمیت تو بہت ہو گی، گذشتہ برس مری آمنے سامنے ملاقات کے بعد دوسرا موقع ہے جب ایسے ملاقات ہوئی ہے، محض ملاقات ہی بہت بڑی پیش رفت اور کامیابی مانی جاسکتی ہے۔

’طالبان کی قیادت میں تبدیلی اور میدان جنگ میں قندوز اور ہلمند پر دباؤ بڑھانے میں خیال یہ تھا کہ نئی طالبان قیادت وقت لی گی دوبارہ مذاکرات میز پر آنے میں پہلے اپنی گرفت مضبوط کی جائے گی تو ایسے میں کافی اہم ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں