کشمیر: احتجاج میں حصہ لینے والے سرکاری ملازمین برطرف

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت نے کئی سرکاری ملازمین کو علیحدگی پسند تحریک کا ساتھ دینے کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کیا ہے۔

حکومت نے ایسے تین درجن سے زیادہ ملازمین کی فہرست تیار کی ہے جنھوں نے ہند مخالف ریلیوں میں شرکت کی اور حکومت کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف بارہ ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کے خلاف اس سرکاری اقدام کو اُس وسیع آپریشن کا حصہ سمجھا جارہا ہے، جسے ساڑھے تین ماہ سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے اگست میں شروع کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف عام لوگوں اور سرکاری ملازمین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اعجاز احمد نامی ایک سرکاری ملازم نے بتایا: "تقریباً چار ماہ سے یہاں سب کچھ بند ہے۔ سرکاری ملازمین نے جان پر کھیل کر سرکاری دفاتر میں کام کیا۔ ان ہی ملازمین کی وجہ سرکار کا وجود قائم رہا۔ افسوس ہے کہ اب سرکار اپنے ہی ملازمین کے خلاف کاروائی کرنے لگی ہے۔"

صحافی ریاض آہنگر کہتے ہیں: "لوگوں کو سیاسی سطح پر ڈیل کرنے میں حکومت ناکام ہوگئی تو اب انتقامی کاروائیاں شروع ہوگئیں، اور وہ بھی سرکاری ملازمین کے خلاف۔ یہ ڈکٹریٹرشپ کی بدترین مثال ہے۔"

جموں و کشمیر میں ملازمین کی سب سے بڑی انجمن ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے : ’ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔ اگر حکومت نے اس فیصلے کو واپس نہیں لیا تو ایک نئی تحریک کا آغاز ہوگا۔‘

واضح رہے تیس سال قبل بھی اُسوقت کی حکومت نے درجنوں سرکاری ملازمین کو علیحدگی پسند سرگرمیوں کی پاداش میں نوکریوں سے برطرف کیا تھا۔ حریت کانفرنس کے رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ بھی اُسوقت برطرف کئے گئے ملازمین میں شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کو نشانہ بنا کر حکومت نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے۔

پروفیسر بھٹ کہتے ہیں کہ "سچ سُننے والے کے لیے کڑوا ہوتا ہے، لیکن کشمیر میں سچ کہنے والا بھی قیمیت ادا کرتا ہے۔ اگر ملازمین نے واقعی سچ بات کہی ہے، تو حکومت کو چاہیے کہ وہ دیکھے مسئلہ کی نوعیت کیا ہے۔ "

قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے مخصوص جغرافیائی اور سیاسی حالات کے باعث یہاں روزگار کا سب سے بڑآ وسیلہ سرکاری نوکری ہے۔

فی الوقت تقریباً پانچ لاکھ لوگ مختلف سرکاری محکموں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف تنخواہوں پر بیس ہزار کروڑ روپے کا مصرف دکھایا گیا ہے، جبکہ بجٹ کا کُل حجم پچاس ہزار کروڑ روپے سے بھی کم ہے۔

اسی بارے میں