انڈیا کے اے ٹی ایم نظام میں نقص، 32 لاکھ کارڈز متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں بینکوں نے 70 کروڑ ڈیبٹ کارڈ جاری کر رکھے ہیں

انڈیا میں 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈز کے غیر محفوظ ہو جانے کے بعد متعدد بینک ان کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

اس سارے معاملے میں متاثر ہونے والے بینکوں میں سے کئی ایک نے اپنے کھاتہ داروں کو کہا ہے کہ وہ اپنے ڈیبٹ کارڈز کے پن نمبر تبدیل کریں۔ کئی بینک یا تو ڈیبٹ کارڈز تبدیل کر رہے ہیں یا ان کو بلاک کر رہے ہیں۔

بینکنگ نظام کے اے ٹی ایم نیٹ ورک میں نقص کے باعث ڈیبٹ کارڈوں کی سکیورٹی میں یہ خامی پیدا ہوئی ہے۔

کئی کھاتہ داروں کو کہنا ہے کہ ان کے کھاتوں یا اکاؤنٹس سے ہزاروں روپے نکال لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا میں بینکوں نے 70 کروڑ ڈیبٹ کارڈ جاری کر رکھے ہیں۔

نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) جو ریٹیل ادائیگیوں کے نظام کا نگران ادارہ ہے نے ایک بیان میں سارے نظام میں گڑ بڑ پیدا ہونے کی تصدیق کی ہے۔

کے پی ایم جی انڈیا کے فورنزک سروس کے سربراہ موہت بہال نے کہا ہے تمام انڈین بینکوں کا سائبر سکیورٹی نظام بین الاقوامی معیار کا ہے اور ترقی یافتہ دنیا کے برابر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کا نقص کسی بھی نظام میں پیدا ہو سکتا ہے اور بینکنگ اور فنانشل سروس میں اس طرح کا نقص پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

این پی سی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام متاثرہ بینکوں کو چوکس کر دیا گیا کہ یہ خطرہ موجود ہے کہ 32 لاکھ کارڈز اس نقص کی زد میں آ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اے ٹی ایم مشینوں سے روزانہ کروڑوں روپے نکلوائے جاتے ہیں

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ روپے اب تک نکلوائے جا چکے ہیں اور اس رقم کا بڑا حصہ چین اور امریکہ میں نکلوایا گیا ہے جس سے 19 بینک اور چھ سو سے زیادہ کھاتہ دار متاثر ہوئے ہیں۔

این پی سی آئی نے کھاتہ داروں سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ اس نقص کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے 62 لاکھ کارڈ متاثر ہوئے ہیں۔

این پی سی آئی نے کھاتہ داروں سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ اس نقص کو دور کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انڈیا کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے باسٹھ لاکھ کارڈ متاثر ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات