جنگ اور فن و ادب

بالی وڈ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بالی وڈ کی فلمیں جہاں انڈیا پاکستان کی چشمکوں کو پیش کرتی ہیں وہیں وہ دونوں ممالک میں ایک پل کا بھی کردار ادا کرتی ہیں

انڈیا کی فلم انڈسٹری سے ایک عرصے سے غیر ممالک بالخصوص پاکستان کے اداکار، گلوکار اور دیگر آرٹسٹ وابستہ ہیں۔ حالیہ برسوں میں اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہت اچھے نہیں رہے لیکن بالی وڈ میں پاکستان کے اداکاروں کی تعداد بڑھتی گئی۔

نغموں میں نازیہ حسن کے بعد موجودہ دور تک پاکستانی گلوکار انڈیا کے کونے کونے تک اپنی آواز کا جادو بکھیر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے کہ خود پاکستان میں بھی پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں کے رول کے بہانے حکومت نے ہندوستانی فلملوں کی پاکستانی تھیٹروں میں نمائش کی اجازت دی۔

ہندوستانی ٹی وی سیریل بھی پاکستانی ناظرین میں خاصے مقبول ہوئے۔ یہاں انڈیا میں بعض چینلوں نے پاکستانی پروگرام شروع کیے جو بہت کم وقت میں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ ٹکراؤ اور کشیدگی کے اس دور میں اداکار اورآرٹسٹ دونوں ملکوں کےدرمیان رشتوں کے سفیر بن گئے۔

انڈیا میں ابتدا سے ہی بہت سے ایسے لوگ تھے جو پاکستانی آرٹسٹوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اوڑی پر شدت پسندوں کے حملے نے انھیں ان آرٹسٹوں کے خلاف مہم کاایک نیا جواز فراہم کر دیا۔

ایک طرف بعض ٹی وی چینل اس حملے کے جواب میں قوم پرستی کے جنون میں کھلے عام جنگ چھیڑنے کی وکالت کر رہے تھے تو وہیں دوسری جانب سخت گیر عناصر نے پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلموں سے باہر نکالنے کی مہم چھیڑ دی۔ بعض تنظیموں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ پاکستانی سٹارز کے ساتھ بننے والی فلم کو آئندہ ہفتے ریلیز نہیں ہونے دیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption کرن جوہر کی فلم اے دل ہے مشکل میں فواد خان نے بھی اداکاری کی ہے اور اب انھیں مشکلات درپیش ہیں

انڈیا میں سخت گیریت کی حامل بعض تنظمیں اور افراد ادب، آرٹ، علم ودانش اور اظہار کی آزادی کےتصور کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان کی مخالفت اس تصور پر قائم ہے کہ کھلی بحث و مباحثے اور فن و ادب کی آزادانہ تخلیق ان کے قدامت پسند نطریے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان افراد کی سوچ کا محوران کا تنگ نظر سماجی اور سیاسی نظریہ ہے جس میں وہ محصور ہیں۔

فلم انڈسٹری پر سخت دباؤ ہے کہ وہ پاکستانی اداکاروں کو فلم میں شامل نہ کرے۔ سخت گیر تنظیموں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ ایسی کوئی فلم ریلیز نہیں ہونے ديں گے جس میں کسی پاکستانی اداکار کا کوئی رول ہو۔

ایک معروف ہدایتکار کو اپنی فلم کی ریلیز کے لیے اس حد تک دباؤ کا سامنا ہے کہ انھیں یہ تک کہنا پڑا کہ وہ آئندہ اپنی فلموں میں کوئی پاکستانی اداکار نہیں لیں گے۔ انڈیا میں ایک لڑائی سرحدوں پر ہے تو دوسری آرٹسٹوں کے خلاف چھیڑی گئی ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کےاس ماحول میں فلم اداکاراور فنکار انتہائی مثبت کردار ادا کر رہے تھے۔ اس وقت وہ ‎سخت گیروں کے نشانے پرہیں۔ لیکن ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ سرحد پر شدید کشیدگی کے باوجود حکومت نے ابھی تک ادب اور آرٹ کو نفرتوں سے الگ رکھنے کی حمایت کی ہے۔ فلم انڈسٹری میں وہ آوازیں غالب ہوتی جا رہیں جو امن و محبت اورآشتی میں یقین رکھتی ہیں۔

سیاسی جماعتیں بھی اوڑی کے حملے کے بعد اٹھنے والے قوم پرستی کے طوفان سے باہر آرہی ہیں اور اب وہ بھی کچھ حد تک اعتدال پسندی پر زوردے رہی ہیں۔ لیکن سخت گیر تنطیموں نے فلم، آرٹ اور کلچر کو جس طرح نشانہ بنایا ہے اس کےاثرات زائل ہونے میں ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں