حریت کے ساتھ دہلی کا ٹریک ٹو ڈائیلاگ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میر واعظ نے اپنی رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا

پیر کے روز حکومت نے اچانک علحیدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کو دو ماہ کی اسیری کے بعد رہا کر دیا اور منگل کی دوپہر بھارت کے سابق وزیرخارجہ اور بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا کی قیادت میں ایک وفد ان کی رہائیش گاہ پر پہنچا۔

وفد سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک، مذاکرات کار وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھارت بھوشن اور ایک این جی او کی سربراہ سوشوبھا بھاروے شامل ہیں۔

یشونت سنہا نے دعوی کیا کہ یہ کوئی سرکاری وفد نہیں ہے، تاہم ان کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد میرواعظ عمر فاروق نے بتایا : ’اگر یہ حکومت کا بھی وفد ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ جاکر حکومت ہند کو بتا دیں کہ لوگ یہاں آزادی چاہتے ہیں اور اس مطالبے کے جواب میں حکومت نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔‘ منگل کی صبح اس وفد نے حریت رہنما سید علی گیلانی کے ساتھ بھی ملاقات کی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ جب بھارتی پارلیمنٹ کا کل جماعتی وفد وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں یہاں آیا تو بعض اراکین نے ذاتی طور مسٹر گیلانی اور میرواعظ کے ساتھ ملاقات کی کوشش کی تاہم دونوں نے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ یاسین ملک اُس وقت بھی جیل میں تھے۔

یہ پوچھنے پر کہ آیا حریت قائدین وفد کے ساتھ مذاکرات کے لیے متفق تھے ، میرواعظ نے بتایا: ’پیر کی شام مجھے رہا کیا گیا اور آج صبح مجھے پتہ چلا کہ یہ لوگ آئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے اسی لیے رہا کیا گیا ہو کہ میں ان سے بات کروں ۔ میری بات گیلانی صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے وفد سے بات چیت کی ہے اور مجھے بھی بتایا کہ میں انھیں واضح کردوں کی ہم لوگ کیا چاہتے ہیں۔‘

میرواعظ نے مذاکرات کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا : ’اُس وقت کل جماعتی وفد کا دورہ ایک مذاق تھا۔ یاسین ملک جیل میں تھے اور گیلانی صاحب گھر میں نظر بند تھے۔ مجھے بھی گھر میں ہی قید کیا گیا تھا۔ ہم مذاکرات کا یہ کھیل دیکھتے آئے ہیں۔ اور پھر وہ لوگ تو مسئلہ کشمیر کی حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔ ہم نے اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا جب واجپائی جی نے کہا کہ بھارتی آئین نہیں بلکہ انسانیت کے دائرے میں بات ہوگی۔ آج کل تو آپ بچوں کو اندھا کرنے، انھیں قید کرنے اور ہلاک کرنے کا فوجی آپریشن کررہے ہو۔ یہ نہ تو ہندوستان کے آئین کا دائرہ ہے اور نہ ہی انسانیت کا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میر واعظ کی رہائی کے بعد ایک غیر سرکاری وفد ان سے ملنے پہنچ گیا

ساڑھے تین ماہ سے جاری ہڑتال پر نظرثانی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کشمیر کی سو روزہ جدوجہد بھارت کے جبر کے خلاف لوگوں کی اخلاقی فتح ہے اور اس تحریک سے حاصل سفارتی اور اخلاقی فوائد کو اب مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب گرفتاریوں، پابندیوں اور ظلم و جبر کی دوسری صورتوں کا سلسلہ بند کیا جائے گا تو متحدہ قیادت تمام طبقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔

واضح رہے گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے جاری احتجاج کی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے کی۔ مسلح تنظیموں نے بھی ان ہی تین رہنماوں کو تحریک سے متعلق فیصلہ سازی کا اعتماد دیا ہے۔ یاسین ملک کو علالت کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے ہسپتال سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ہلاکتوں، گھروں کی توڑ پھوڑ ، گرفتاریوں، پابندیوں اور لوگوں کو ہراساں کرنے کی حکومتی پالیسی کے درمیان دہلی سے آنے والے کسی بھی وفد سے مذاکرات فضول مشق ہوگی۔ ان کی جماعت لبریشن فرنٹ کے مطابق وفد کے نمائندوں نے ان کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم مسٹر ملک نے انکار کردیا۔

وادی کے دورے پر آیا یہ وفد جب سید علی گیلانی اور میراعظ عمر کی رہائش گاہوں سے رخصت ہوا تو وہاں پر موجود لوگوں نے ’گو انڈیا گو بیک‘ اور آزادی کے نعرے بلند کئے۔

واضح رہے کہ کشمیر کا دورہ کرنے والے اس بظاہر غیرسرکاری وفد کے سبھی ارکان کشمیر کے بارے میں ٹریک ٹو مذاکرات یا خفیہ ڈائیلاگ کا حصہ رہے ہیں۔ تیرہ سال قبل جب اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیراعظم تھے، تو جنرل مشرف نے پاکستان کی روایتی پالیسی میں نرمی کردی اور مذاکراتی کوششوں کی حمایت کی۔ انھوں نے فوجی انخلا اور کشمیری خطوں کے مشترکہ انتظامیہ پر مشتمل چار نکاتی فارمولہ بھی پیش کیا۔ اُسوقت میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے حکومت ہند کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار میں شمولیت کی اور بعد ازاں کانگریس دور حکومت میں وزیراعظم منموہن سنگھ کےساتھ بھی مذاکرات کئے۔

تاہم اس بار میرواعظ، یاسین ملک اور سید علی گیلانی مذاکراتی ایجنڈے کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر ہیں۔ تینوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ہند کہ کشمیر کو ایک منتازعہ خطہ تسلیم نہیں کرتی مذاکرات کی سبھی کوششیں وقت کا ضیاع ہوں گی۔

سید علی گیلانی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کشمیرکو بھارت متنازعہ تسلیم کرے اور کشمیر سے فوجیں واپس بلالے تو وہ پاکستان سے کہیں گے کہ وہ آزاد کشمیر سے فوجی انخلا کا عمل شروع کرے۔ حالانکہ حکومت ہند اور حریت قیادت کے موقف میں نظریات کا بہت بڑی خلیج ہے، تاہم کشمیر میں مقیم بھارتی وفد کا کہنا ہے کہ ’مسٹر گیلانی اور مسٹر عمر کے ساتھ نہایت خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں