سرینگر: مارچ ناکام بنانے کے لیے جامع مسجد پھر مقفل

جامع مسجد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ 16ہفتوں سے مسلسل ہر جمعے کو جامع مسجد کو سیل کیا جاتا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے جمعے کو ایک بار پھر دارالحکومت سرینگر کے بیشتر مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا ہے جس کا مقصد علیحدگی پسندوں کی طرف سے ’جامع مسجد مارچ‘ کو ناکام بنانا تھا۔

کشمیر میں گذشتہ 16 ہفتے سے مسلسل ہر جمعے کو جامع مسجد کو سیل کیا جاتا ہے، اور 600 سال پرانی اس تاریخی مسجد کی طرف جانے والے ہر راستے کی ناکہ بندی کی جاتی ہے۔

٭ جائیں تو جائیں کہاں؟

٭ کشمیر میں انڈین فوج کا 'جرنیلی بندوبست'

عیدالاضحیٰ کے روز بھی جامع مسجد اور دوسری بڑی خانقاہوں کو مقفل کیا گیا تھا، کیونکہ علیحدگی پسندوں نے اس روز بھی ان مقامات پر عوامی اجتماعات کی کال دی تھی۔

گذشتہ روز جامع مسجد کے خطیب اور حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے دو ماہ کی قید سے رہائی کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ ’اس جمعے کو اگر حکومت کرفیو نافذ کرے گی تو ہم کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جامع مسجد جائیں گے۔‘

بعد میں میرواعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جمعے کے روز تحریک آزادی کے حق میں تجدید عہد کے لئے وادی بھر سے لوگ جامع مسجد کی طرف مارچ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جامع مسجد کے خطیب اور حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے دو ماہ کی قید سے رہائی کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ 'اس جمعے کو اگر حکومت کرفیو نافذ کرے گی تو ہم کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جامع مسجد جائیں گے۔'

ایک ایسے وقت میں جب سابق بھارتی وزیر اور بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا کی قیادت میں پانچ رکنی وفد علیحدگی پسندوں اور دوسرے حلقوں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اور حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں کی شدت کم ہوئی ہے، جامع مسجد کو پھر ایک بار مقفل کرنے سے عوامی حلقوں میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے سرینگر کی جامع مسجد تاریخی طور پر کشمیریوں کی مزاحمت کا مرکز رہی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کے آباواجداد اسی مسجد میں لوگوں سے خطاب کرتے تھے، اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے تھے۔

حکومت کا موقف ہے کہ مساجد اور عبادت گاہوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، تاہم میرواعظ عمرفاروق کہتے ہیں : ’جب ہمارے مذہبی حقوق پامال کیے جارہے ہوں تو ہم اس کا رونا کہاں پر روئیں۔‘

کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ 110روز کے دوران کشمیر میں کُل ملاکر ہند مخالف مظاہروں کے 2249 واقعات رونما ہوئے جن میں سے صرف جمعے کے موقعے پر 700 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران احتجاجی تحریک کا زور ٹوٹ گیا ہے، اور پچھلے تین ہفتوں سے جمعے کے روز حالات مجموعی طور پرسکون رہتے ہیں۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود تاریخی جامع مسجد میں جمعے کے اجتماع کو اب بھی امن و قانون کے لئے خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے 8 جولائی کو پولیس کے ہاتھوں 22 سالہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ان کے جنازے میں شرکت کے لئے مختلف علاقوں سے جو جلوس نکلے ان پر فورسز نے براہ راست فائرنگ کردی تھی۔ اس کے نتیجے میں پہلے دو روز کے دوران 44 افراد ہلاک اور 2000 زخمی ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احتجاجی تحریک کے خلاف سرکاری کارروائیوں میں اب تک 6000 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

ان ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں جو احتجاجی تحریک بھڑک اُٹھی اُسے دبانے کے لیے پولیس اور انڈیا کی مرکزی پولیس، سی آر پی ایف نے چھرّوں اور مرچوں سے بھری گیس کا بے تحاشا استعمال کیا۔ ان کارروائیوں میں اب تک 100سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہسپتال ریکارڈ کے مطابق 15 ہزار زخمی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کے خلاف سرکاری کارروائیوں میں اب تک 6000 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 450 کو حبس بے جا کے قانون، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کشمیر سے باہر کی جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔

اس دوران علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق کو جیل سے رہا کرکے ان کے اپنے گھر میں ہی نظر بند کیا گیا ہے جبکہ 88 سالہ حریت رہنما سید علی گیلانی بھی طویل عرصے سے گھر میں نظر بند ہیں۔ یاسین ملک کی طبعیت جیل میں خراب ہوگئی تو انھیں ایک ہفتے تک ہسپتال میں داخل کیا گیا اور بعد میں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔

وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولت ابھی بھی معطل ہے جبکہ انگریزی روزنامہ کشمیر ریڈر پر بھی پابندی بدستور قائم ہے۔ علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہر جمعرات کو ہفتہ وار احتجاج کا شیڈیول جاری کیا جاتا ہے، جس کے مطابق مسلسل ہڑتال ہوتی ہے تاہم چند دنوں کے لئے شام پانچ بجے کے بعد ضروری خریداری کے لئے ہڑتال میں ’نرمی‘ کی جاتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کی احتجاجی تحریک کے دوران 19 سکول، 44 سرکاری عمارتیں، 10 دکانیں اور 63 نجی گاڑیاں نذرآتش کی گئیں۔ آتشزنی کی ان وارداتوں سے متعلق حریت رہنماوں نے بار بار عوام سے اپیل کی ہے وہ ’ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو تحریک کو بدنام کرتے ہیں۔‘ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ہڑتال کو نافذ کرنے کے لئے علیحدگی پسند کارکن ہی ان وارداتوں میں ملوث ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں