کیا لالو اور ملائم کی سیاست کا خاتمہ شروع ہوچکا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے یادو خاندان میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور ملائم سنگھ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو کی علاقائی جماعت سماجوادی پارٹی تقریـیاً 30 برس سے ریاست کی سیاست کا محور بنی ہوئی ہے۔ یہ علاقائی جماعت ریاست میں اقتدار میں ہے۔ اس میں پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو کے خاندان کے 20 سے زیادہ قریبی رشتےدار اسمبلی اور پارلیمنٹ کے رکن، وزیر اور دوسرے اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔

ریاست میں انتخابات ہونے والے ہیں اور انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے یادو خاندان میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور ملائم سنگھ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ پارٹی دو حصو‍ں میں تقسیم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔

بھارت جغرافیائی اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں جتنی ریاستیں ہیں اس سے کہیں زیادہ زبانیں اور تقافتیں اور نسلیں اس ملک میں ملتی ہیں۔ آزادی کے بعد قومی سطح پرزیادہ مدت تک کانگریس کا غلبہ رہا جس کی جگہ اب رفتہ رفتہ بھارتی جنتا پارٹی لیتی جا رہی ہے۔ لیکن ریاستوں کی سطح پر تمل ناڈو، بہار، اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ، اڑیسہ، دلی، اور کئی دیگر ریاستوں میں علاقائی جماعتیں وجود میں آئیں۔

Image caption علاقائی رہنماؤں کا طریقہ کار اوراور ان کا ذاتی طرز عمل ہی ان کی سیاسی جماعت کا نظریہ ہوتا ہے۔ ان رہنماؤں کے زوال کے ساتھ یہ جماعتیں بھی ڈھیر ہو جاتی ہیں

علاقائی جماعتیں بنیادی طور پر بادشاہت کے طرز پر قائم ہوئیں۔ یہ سبھی جما عتیں شخصی نوعیت کی ہوتی ہیں جو کسی ایک مقبول رہمنا کے گرد گردش کرتی ہیں۔ تنظیمی اعتبار سے یہ غیرجمہوری ہوتی ہیں۔ پارٹی کے رہنا سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سارے اختیارات شخصی قیادت کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

تمل ناڈو میں جیا للتا اور ایم کرونا ندھی، بہار میں لالو پرساد یادو اور نتیش کمار، اتر پردیش میں ملایم سنگھ یادو اور مایا وتی، اڑیسہ مین بیجو پٹنایک، کشمیر میں محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ، بنگال میں ممتا بینر جی اور پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل ایسی ہی علاقائی جماعتوں کے رہنما ہیں۔

جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو سیاسی اعتبارسے یہ ماضی کے بادشاہوں سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار اور ان کا ذاتی طرز عمل ہی ان کی سیاسی جماعت کا نظریہ ہوتا ہے۔ ان رہنماؤں کے زوال کے ساتھ یہ جماعتیں بھی ڈھیر ہو جاتی ہیں۔

کانگریس کے زوال کے بعد بی جے پی رفتہ رفتہ پورے ملک میں کانگریس کی جگہ لیتی جا رہی ہے۔ جن ریاستوں میں علاقائی جماعتیں مضبوط رہی ہیں اب وہ بھی بی جے پی کے قدموں کی دھمک محسوس کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے اس دور میں چھوٹی سیاسی جماعتوں کے لیے سیاست اب آسان نہیں رہی ہے۔ سیاست کے لیے ٹھوس مالی وسائل چاہئیں جن کے راستے اب بند ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ علاقائی جماعتیں اب اپنا کردار ادا کر چکی ہیں۔ مستقبل میں زیادہ جدید، تیز رفتار اور جمہوری طرز کی جماعتیں ان کی جگہ لے سکتی ہیں۔

Image caption کانگریس کے زوال کے بعد بی جے پی رفتہ رفتہ پورے ملک میں کانکریس کی جگہ لیتی جا رہی ہے

اتر پردیش میں ملایم سنگھ یادو اور بہار میں لالو پرساد کی سیاست کا دور اب مندمل ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی پس منظر میں ان رہنماؤں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ تمل ناڈو میں اے آئی ڈی ایم کے کی رہنما جیا للتا دو مہینے سے ہسپتال میں ہیں۔ ان کی جماعت کا مستقبل بے یقینی میں محصورہے۔

آئندہ چند مہینوں میں اترپردیش اور پنجاب کے انتخابات سے ملک کی سیاست کا رخ اور بھی واضح ہو گا۔ بی جے پی کے لیے حالات انتہائی موافق ہیں۔ اسے کسی جانب سے کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی مستقبل میں ایک متبادل کےطور پرابھر سکتی تھی۔ بی جے پی کی حکومت نے اسے دلی میں پوری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ وہ اسے ریاستی انتخابات میں کسی قیمت پر ابھرنے نہیں دینا چاہتی۔

اترپردیش میں ملائم کے بیٹے اکھیلیش خود کو ماضی کی سیاست سے الگ کرنے کی جدو جہد کررہے ہیں۔ پنجاب میں آپ پارٹی بی جے پی اور کانگریس دونوں کو ہٹانے کا ایک موقع دیکھ رہی ہے۔ یہ انتخابات انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان انتخابات سے بھارت کی مستقبل کی سیاست کا آغازہونے والا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں