کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی رہائی، مذاکرات کی نوید ؟

یاسین ملک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسین ملک گذشتہ 32 سال سے ہند مخالف تحریک میں سرگرم ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے معروف علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو تین ماہ کی قید کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ 52 سالہ یاسین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں اور کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے درمیان نظریاتی اتحاد کے معمار ہیں۔

یاسین ملک دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ گذشتہ ماہ جیل میں ان کی صحت خراب ہو گئی تھی جس کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

گذشتہ روز جب انھیں ہسپتال سے دوبارہ جیل منتقل کیا گیا تو سیاسی، سماجی اور دوسرے حلقوں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی، تاہم انھیں فوری طور رہا کر دیا گیا۔

ان کی رہائی سے قبل حکام نے علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کو بھی جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ لیکن سید علی گیلانی بدستور گھر میں نظر بند ہیں اور ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

میرواعظ، ملک اور گیلانی گذشتہ تقریباً چار ماہ سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک کی مشترکہ طور پر قیادت کررہے ہیں۔

یاسین ملک اور میر واعظ کی رہائی ایسے وقت ہوئی ہے جب سابق انڈین وزیر اور بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا کی قیادت میں اہم شخصیات کا پانچ رکنی وفد کشمیر کا طویل دورہ کر کے واپس دہلی پہنچا ہے۔

یشونت سنہا کے وفد نے میر واعظ اور گیلانی کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں لیکن یاسین ملک نے اس وفد کے ساتھ ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم وفد میں شامل صحافی بھارت بھوشن یاسین ملک کی بمیار پُرسی کے لیے ہسپتال گئے تھے۔ مسٹر بھوشن یاسین ملک کے گہرے دوست ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات نجی نوعیت کی تھی۔

یاسین ملک کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کے وفود کشمیر آتے رہے ہیں لیکن بعد میں یہاں کی زمینی صورتحال پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مسٹر ملک کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے ریٹائرڈ سفارتکاروں، این جی اوز کے نمائندوں اور دوسری سماجی شخصیات پر مشمتل ایک ’فائر فائٹنگ‘ ٹیم رکھی جو کشمیر میں ’آگ بجھانے کا کام‘ تو کرتی ہے، لیکن حکومت ان کی سفارشات کو خاطر میں نہیں لاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسین ملک کی رہائی سے قبل حکام نے علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کو جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا

واضح رہے یاسین ملک نے ہی رواں سال کے آغاز میں میر واعظ اور سید علی گیلانی کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر کے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کیا تھا۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تینوں رہنماؤں نے یشونت سنہا کے ساتھ ملاقات سے قبل کوئی مشاورت کی تھی یا نہیں۔

میر واعظ عمر فاروق نے گذشتہ ہفتے یشونت سنہا کے وفد کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھیں سید علی گیلانی نے ہی فون پر بتایا تھا کہ وہ بھی مسٹر سنہا کے وفد سے ملاقات کر کے انھیں متفقہ موقف سے آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ستمبر میں بھی انڈین وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں انڈین اراکانِ پارلیمان کا ایک وفد کشمیر آیا تھا۔

وفد میں شامل اسد الدین اویسی، سیتارام یچوری، ڈی راجا اور شرد یادو نے گیلانی اور میر واعظ کے ساتھ ملاقات کی کوشش کی، تاہم ان رہنماؤں نے انکار کردیا۔

سید علی گیلانی نے تو وفد پر گھر کا دروازہ ہی بند کر دیا جبکہ میر واعظ نے انھیں دروازے سے لوٹنے کو کہا۔

بعد میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وفد کی ان کوششوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا اور ان اراکان کی محض ذاتی خواہش کے تحت ایسا کیا۔

تاہم اب کی بار یشونت سنہا کی طرف سے مذاکرات کی تازہ کوشش کو معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔ خاص طور پر ان کی یہاں آمد پر علیحدگی پسندوں کی رہائی کو حکومت کی طرف سے اعتماد سازی کا ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کشمیر کے تجارتی اداروں نے یاسین ملک کی رہائی کو صحیح سمت میں اُٹھایا گیا قدم قرار دے کر دوسرے قیدیوں خاص طور پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکن خرم پرویز کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہند مخالف احتجاج کو دبانے کے لیے حکومت نے کشمیر کے چپے چپے پر فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو کریک ڈاؤن کی ہدایت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید علی گیلانی بدستور گھر میں نظر بند ہیں

رات کے دوران گھروں کی توڑ پھوڑ اور زیادتیوں کی خبروں سے اعتماد سازی کی کوششوں کی اہمیت کم ہورہی ہے۔ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 6000 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے 400 کو سخت ترین قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت کشمیر سے باہر کی جلیوں میں قید کیا گیا ہے۔

یاسین ملک گذشتہ 32 سال سے ہند مخالف تحریک میں سرگرم ہیں۔ 1984 میں انھیں پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں قید کیا گیا اور اس دوران ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے۔

1988 میں دوسرے نوجوانوں کے ہمراہ مسلح تربیت کے لیے پاکستان گئے اور واپسی پر ہند مخالف مسلح گروپ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ بن گئے۔

انھوں نے 1994 میں مسلح تصادم کا راستہ ترک کرکے پرامن سیاسی جدوجہد کا نعرہ دیا اور لبریشن فرنٹ کو ایک سیاسی جماعت کے طور متعارف کیا۔

لیکن یاسین ملک کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے کشمیریوں کی طرف سے پرامن کاوشوں کو کبھی نہیں سراہا۔

ان کا کہنا ہے: ’سیز فائر کے بعد میرے 600 ساتھیوں کو زیرحراست قتل کیا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ محض بات کرنے پر یہاں جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں