جوشیلے انڈین اینکر کے استعفے پر ہلچل

ارنب گوسوامی تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ارنب گوسوامی ٹی چینل ٹائمز ناؤ کے چیف ایڈیٹر ہیں

انڈیا کے معروف ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی اطلاعات پر سوشل میڈیا میں ہلچل نظر آ رہی ہے۔

ہتک عزت معاملہ، چینل پر ایک ارب روپے کا دعویٰ

انڈین میڈیا میں قوم پرستی پر'جنگ'

گذشتہ روز انڈیا میں ٹوئٹر ٹرینڈز میں ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی دیر تک مقبول رہے تاہم ابھی تک نہ تو ارنب نے اس سلسلے میں کوئی وجہ دی ہے اور نہ ہی ان کے ادارے نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

استعفے کی اطلاعات کے بعد بھی وہ اپنے معروف پروگرام نیوز آور میں رات اسی انداز میں نظر آئے اور انھوں نے اس جانب کوئی اشارہ بھی نہیں کیا۔

بہر حال بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹائمز ناؤ کے ذرائع نے مقامی میڈیا میں آنے والی اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کے روز ارنب گوسوامی نے سٹاف میٹنگ میں اپنے مستعفی ہونے کی بات کی تھی۔

ارنب گوسوامی انڈیا میں انگریزی چینلز کے اہم اینکرز میں شمار ہوتے ہیں اور انھیں مہمانوں کے ساتھ قطع کلامی کرنے اور ’ملک/قوم جاننا چاہتی ہے‘ جیسے فقرے سے سوال داغنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے بعد سابق پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمد قصوری کے ساتھ ایک انٹرویو ارنب گوسوامی کو درمیان میں ہی ختم کرنا پڑا جب سابق وزیر کی ٹیم اور ارنب گوسوامی کے درمیان بات چیت کے خد و خال پر اتفاق نہ ہوسکا۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان قائرہ کو بھی ان کے شو سے ایک مرتبہ اٹھ کر آنا پڑا۔

پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ انٹرویو میں بھی وہ جارحانہ نظر آئے تھے البتہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف جنوری 2013 میں سیاچین کے معاملے پر گوسوامی پر حاوی نظر آئے تھے۔

ارنب گوسوامی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پروگرامز میں شریک ہونے والے مہمانوں کو زیادہ بات کرنے کا موقع نہیں دیتے اور یہ کہ وہ فیصلہ کن انداز میں پروگرام پیش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption امول کے اشتہار میں ارنب کے مستعفی ہونے کی خبر پر ردعمل

انڈیا کے معروف اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ان کے ناظرین ان کے گرویدہ ہیں اور وہ ان کے ’براہ راست اور سوالیہ انداز کو پسند کرتے ہیں۔‘

کئی بار مہمان ان کے پروگرام کو بیچ میں ہی چھوڑ کر اٹھ چکے ہیں۔

ایک شخص نے لکھا کہ کسی صحافی کے کسی چینل سے مستعفی ہونے کی خبر کبھی شہ سرخیوں میں نہیں آئی تھی اور ارنب کی خبر کا شہ سرخیوں میں آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کس قدر مقبول تھے۔

جبکہ مادھون نارائن نے اپنے ٹویٹر ہینڈل میڈورسٹی سے لکھا ’بریکنگ نیوز: دلی میں ہوا کی آلودگي میں اضافہ آواز کی آلودگی میں کمی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / MADVERISTY
Image caption ٹوئٹر پر ارنب کی چینل سے علیحدگی کی خبر پر ہلچل

بظاہر یہ اشارہ اونچی آواز میں ان کے پروگرام میں ہونے والے مباحثے کی جانب تھا۔

فلمی اداکار پریش راول کے فینز کے ٹویٹر ہینڈل بابوبھیا سے لکھا گیا ’ارنب گوسوامی کے بغیر ٹائمز ناؤ ایسا ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔‘

بعض حلقوں سے یہ آواز آ رہی ہے کہ گوسوامی کچھ دنوں بعد چینل میں لوٹ آئیں گے جبکہ بعض یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید وہ معروف امریکی میڈیا ٹائیکون روپرٹ مرڈوک کے ساتھ اپنا چینل لانچ کرنے والے ہیں۔

ایک نیوز سائٹ ’دا کوئنٹ‘ نے ذرائع سے بتایا کہ وہ نئے پروجیکٹ پر کام کرنے والے ہیں جو کہ بی بی سی اور سی این این کا مقابلہ کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / ASHOKE PANDIT
Image caption سوشل میڈیا میں ہلچل

اسی بارے میں