یس ارنب، بٹ ارنب!

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ارنب کا جانا حکومت کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں بہت بے چینی ہے، اب پالیسی کون وضع کرے گا؟

انڈیا میں صرف دو طرح کے لوگ بستے ہیں، ایک وہ جو 'ارنب' سے محبت کرتے ہیں اور دوسرے وہ جنھیں ان کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ایک اور خطرناک نسل ہو، وہ ایسے لوگوں کی جو ارنب کو جانتے ہی نہ ہوں، لیکن وہ بے چارے کس گنتی میں آتے ہیں۔

پھر بھی آپ کو یاد دلادیں کہ ارنب گوسوامی ٹائمز ناؤ کے اینکر تھے، اب چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ان کے جانے پر لوگ خوشی کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور غم کا بھی۔

تو پرائیویٹ بات چیت میں اور واٹس ایپ پر لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔

انڈیا میں صحافت کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا: ارنب سے پہلے اور ارنب کے بعد۔

ارنب سے پہلے صحافی سوال پوچھتے تھے، جواب سنتے تھے اور پھر سوال پوچھتے تھے۔ ارنب کے آنے کے بعد وہ پہلے سوال پوچھتے ہیں، پھر خود ہی جواب دیتے ہیں اور اپنے ہی جواب سے مطمئن نہیں ہوتے تو پھر وضاحت کے لیے سوال پوچھتے ہیں۔ اس دوران مہمان کو صرف 'یس ارنب'اور 'بٹ (لیکن) ارنب' کہنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ارنب کے ٹائمز ناؤ چھوڑنے کے اعلان پر پاکستان میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اب کم سے کم ٹائمز ناؤ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس نہیں کرے گا!

ارنب کا جانا حکومت کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں بہت بے چینی ہے، اب پالیسی کون وضع کرے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ TIMESNOW BARKHA DUTT FACEBOOK
Image caption این ڈی ٹی وی کی برکھا دت کے لیے یہ اچھی خبر ہے، اب انہیں اپنے پروگرام میں بار بار یہ نہیں دہرانا پڑے گا کہ 'اس چینل پر آپ کی آواز سنی جاتی ہے' اور ہم 'دوسرے' چینلوں کی طرح شور شرابے کی صحافت نہیں کرتے

انڈیا کے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ دونوں پریشان ہیں، ارنب نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ اب کیا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے صرف اتنا عندیہ دیا ہے کہ کھیل ابھی صرف شروع ہوا ہے! کیا دھونی کی نوکری بھی خطرے میں ہے؟

ٹائمز ناؤ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، ارنب ایک صحافی نہیں انٹسی ٹیوشن( ادارہ) ہیں اور ان کے 'کلون' اب ہر چینل پر موجود ہیں، ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے جتنے بھی امیدوار ہوں گے، سب کا انٹرویو ایک ساتھ لیا جائے گا، کچھ ارنب کی ڈبیٹس کی طرح جہاں سب بیک وقت بولتے ہیں کہتا کوئی کچھ نہیں، اور جس کی آواز سب سے بلند ہوگی، اسے ارنب کا تاج پہنا دیا جائے گا۔

لیکن ارنب کے ہمدردوں کی بھی کمی نہیں۔

این ڈی ٹی وی کی برکھا دت کے لیے یہ اچھی خبر ہے، اب انہیں اپنے پروگرام میں بار بار یہ نہیں دہرانا پڑے گا کہ 'اس چینل پر آپ کی آواز سنی جاتی ہے' اور ہم 'دوسرے' چینلوں کی طرح شور شرابے کی صحافت نہیں کرتے۔ اب وہ خود بھی صحافت پر توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔

ارنب ٹی وی کی صحافت کے 'اینگری ینگ مین' ہیں کچھ امیتابھ بچن کی طرح۔ نہ ان کی عمر بڑھتی ہے اور نہ غصہ کم ہوتا ہے۔

ارنب دو دھاری تلوار ہیں، انہوں نے سشما سواراج اور وسندھرا راجے سندھیا دونوں کو نہیں بخشا، لیکن لوگ صرف راہل گاندھی کا انٹرویو یاد رکھتے ہیں۔

کیا ارنب گوسوامی خود اپنی شخصیت سے مستعفی ہو سکتے ہیں؟ وہ جلدی ہی ایک نئے اوتار میں، ایک نئے چینل پر جنم لیں گے۔

ارنب کا تکیہ کلام ہے کہ 'دی نیشن ڈیمانڈز این آنسر (قوم جواب چاہتی ہے) اور انہیں پسند نہ کرنے والے بہت سے لوگ، جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سے کسی سوال کا جواب نہیں مانگا، اور کم سے کم ارنب کو اپنی طرف سے سوال پوچھنے کا مختار نامہ نہیں دیا ہے، یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ جہاں بھی جائیں اور جو بھی کریں 'اس نیشن کو، یہ جو بھی ہے، اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ باقی لوگ امن چین سے زندگی گزار سکیں!

ارنب کے جانے کے بعد امیتابھ بچن کی فلم شعلے کا کون سا مشہور ڈائیلاگ ہر زبان پر ہو گا؟

انتا سناٹا کیوں ہے بھائی!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں