القاعدہ کے سینیئر رہنما افغانستان میں ڈرون کا نشانہ بن گئے

ڈرون طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب میں پیدا ہونے والے فاروق القحطانی کو فروری میں امریکہ میں مطلوب ترین مجرموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا

امریکی حکام نے گذشتہ ماہ شمال مشرقی افغانستان میں ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے ایک سینیئر رہنما کو ہلاک کرنے تصدیق کی ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ علاقے میں تنظیم کے امیر فاروق القحطانی کو دو ہفتے قبل ایک حملے میں ہلاک کیا گیا۔

افغانستان میں ڈرون حملہ، القاعدہ کے رہنما، پاکستانی طالبان ہلاک

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل حکومتی ذرائع سے اس حملے کی اطلاعات تو موصول ہوئی تھیں تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی کہ یہ حملہ کامیاب ہوا تھا کہ نہیں۔

اس حملے میں فاروق القحطانی کے نائب بلال المتعبی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کئی سالوں سے قحطانی کی تلاش میں تھے۔ فوجی حکام نے 2012 میں ان کا سراغ لگا لیا تھا اور ان پر حملہ کرنے والے ہی تھے مگر یہ کارروائی آخری وقت پر شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کے پیشِ نظر ملتوی کر دی گئی۔

قحطانی اور ان کے نائب پر جب حملہ کیا گیا اس وقت وہ کنڑ کے ضلع غازی آباد کے ہلگل گاؤں میں تھے۔ یہ دونوں دو الگ الگ عمارتوں میں تھے جو ایک دوسرے سے کئی سو میٹر دور تھیں۔ ان عمارتوں پر متعدد میزائل داغے گئے۔

سعودی عرب میں پیدا ہونے والے فاروق القحطانی کو فروری میں امریکہ میں مطلوب ترین مجرموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک تھے۔

فاروق القحطانی قطری شہریت رکھتے تھے اور ان کے خلاف یورپ میں حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی تھے۔

افغان حکومت کے ترجمان عبد الغنی مصمم نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو ہونے والے اس حملے میں کنڑ صوبے میں 15 جنگجو مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو عرب اور ایک پاکستانی بھی شامل تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعے کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے وفادار جنگجوؤں نے افغانستان کی حالیہ مہم کے دوران طالبان سے زیادہ فعال رول ادا کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں