دہلی میں سموگ: آنکھوں میں جلن، سینے میں طوفان کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی پہلے سے ہی دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے

میری آنکھوں میں جلن ہے لیکن سینے میں طوفان نہیں۔ کئی دن سے سانس لینے میں بھی دقت ہو رہی ہے، سر میں بھاری پن کا احساس ہے، ایک خوف ہے جو دل میں گھر کر گیا ہے کیونکہ ایک دشمن ہے جو ہوا میں تیر رہا ہے، جو اب تک پوشیدہ تھا لیکن دیوالی/ دسہرے کے دن بدی پر نیکی کی فتح کیا ہوئی، اب وہ سینا تانے دندناتا پھر رہا ہے۔

سموگ سے دہلی میں 1700 سے زیادہ سرکاری سکول بند

دہلی اور اس کے گرد و نواح میں ہوا کا رنگ بدلا ہوا ہے، پہلے ہوا کا کوئی رنگ نہیں ہوتا تھا، آپ اسے صرف محسوس کر سکتے تھے، آج کل مٹمیلا نارمل ہے۔ کئی دن سے آسمان نظر نہیں آیا ہے، ہوا میں اتنی آلودگی ہے کہ آپ اس کا مزہ چکھ بھی سکتے ہیں اور اسے صاف دیکھ بھی سکتے ہیں۔

Image caption دہلی میں میرے گھر کی بالکونی سے لی گئی تصویر کے اوپری حصے میں اگست اور نیچے کا منظر نومبر کا ہے

لاکھوں، کروڑوں لوگ اسی کرب سے گزر رہے ہیں۔ دہلی ایک گیس چیمبر میں بدل چکی ہے، وزیر اعلیٰ کو بھی اس کی خبر ہو گئی ہے اور شاید وفاقی حکومت کو بھی۔ اس لیے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے، اتوار کو نہیں پیر کو کیونکہ اتوار تو چھٹی کا دن ہے۔

ہریانہ، پنجاب اور مغربی اتر پردیش میں کسان گندم بونے کی تیاری کر رہے ہیں، دھان کی فصل کٹ چکی ہے، کھیتوں کو صاف کرنے میں جو لاگت آتی ہے اس سے بچنے کے لیے کسان روایتاً آگ کا سہارا لیتے ہیں، یہ دھواں معلوم نہیں کیوں دہلی کا رخ کرتا ہے، لیکن آلودگی کے لیے صرف کسان ہی ذمہ دار نہیں ہیں۔

دہلی پہلے سے ہی دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، بس اس کا زیادہ ذکر نہیں ہوتا۔ یہاں گاڑیوں کی تعداد ممبئی، چنئی اور کولکتہ میں گاڑیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے، شاید ہر گاڑی ہر روز سڑک پر ہوتی ہے، ہر گاڑی سے دھواں نکلتا ہے اور اس ہوا میں ضم ہو جاتا ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ سڑکوں پر جھاڑو لگتی ہے، دھول اڑتی ہے اور ہوا میں ہی رہ جاتی ہے، اسی ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں۔

چاروں طرف بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں، لاکھوں فلیٹ زیر تعمیر ہیں۔ وہاں سے دھول مٹی اڑتی ہے اور ہوا میں ہی رہ جاتی ہے۔

دہلی اور اس کے گرد و نواح میں کئی بڑے صنعتی علاقے ہیں، لاکھوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں اپنا یوگدان دیتی ہیں، ایک بڑا تھرمل بجلی گھر ہے، وہاں سے فلائی ایش اڑتی ہے، ہر رات لاکھوں ٹرک دہلی سے ہو کر گزرتے ہیں، ٹرک تو چلے جاتے ہیں، ان کی یادیں اس ہوا میں باقی رہ جاتی ہیں جس میں دو ڈھائی کروڑ انسان سانس لیتے ہیں۔

ہر مہینے کبھی چونکا دینے والی تو کبھی ڈرا دینے والی رپورٹیں آتی ہیں۔ ہر سال دہلی میں 30 ہزار لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں، بچوں کے پھیپھڑے تباہ ہو رہے ہیں، بڑوں کے شاید ہو چکے ہیں لیکن دیکھنے سے ایسا لگتا نہیں کہ کسی کو فکر ہے۔

اگر ہوتی تو لوگ پوری ذمہ داری حکومت پر نہ ڈالتے، وفاقی حکومت دہلی کی ریاستی حکومت کو نشانہ نہ بناتی، اور دہلی کی حکومت یہ نہ کہتی کہ مسئلہ صرف ہمارا نہیں ہے، ہواؤں پر کسی کا اختیار نہیں، وہ کسی بھی رخ چل سکتی ہیں۔

فی الحال مسئلہ یہ ہے کہ ہوا بالکل بند ہے۔ تیز ہوا چلے گی تو حالات کچھ بہتر ہوں گے لیکن ماہرین دو خطرناک باتیں یاد دلا رہے ہیں: حالات کو بہتر بنانے کے لیے کوئی شارٹ ٹرم حل نہیں ہے، اور طویل مدتی اقدامات کے بارے میں کسی نے سوچنا شروع نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہر سال دہلی میں 30 ہزار لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں

حالات سردیوں میں زیادہ خراب ہو جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی ناپنے والے آلات بھی ہار مان رہے ہیں، آلودگی کتنی بھی ہو وہ زیادہ سے زیادہ 999 تک ہی ریڈنگ دے سکتے ہیں، سنیچر کو شہر کے کم سے کم پانچ علاقوں میں یہ ریڈنگ 999 تھی!

لیکن اس مرتبہ ایک فرق تو آیا ہے، میڈیا جو شینا بورا کے قتل کیس پر ہفتوں بحث کرنے سے نہیں تھکتا تھا، اب آلودگی کی بات کررہا ہے۔

اگر یہ خبر ٹی وی چینلوں پر اور اخبارات میں رہے گی تو ہو سکتا ہے کہ صاف ہوا بھی ایک انتخابی موضوع بن جائے، ہو سکتا ہے کہ عام شہریوں کو بھی یہ احساس ہو جائے کہ جو دھواں ان کی گاڑیوں اور سکوٹروں سے نکلتا ہے، وہ ان کے اپنے پھیپھڑوں میں بھی جاتا ہے اور اس ہوا کے ساتھ انتہائی مہین زرات بھی، جو پھیپھڑوں میں ہی بس جاتے ہیں۔

جب تک یہ بیداری پیدا ہوگی، ہمیں اسی گیس چیمبر میں رہنا ہوگا، یہاں سے کوئی فرار نہیں۔ میری آنکھوں میں جلن تو ہے، بس سینے میں طوفان کا انتظار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں