کشمیر کی ہڑتال اور حُرّیت کا تذبذب

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حریت کانفرنس کی کال پر مسلسل ہڑتال جاری ہے

گذشتہ چار ماہ سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک کے دوران سرکاری فورسز کی طرف سے ظلم و زیادتیوں کے نئے ریکارڑ رقم ہوئے۔ 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، 15000 زخمی ہیں، 7000 کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہزاروں نوجوان گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئےہیں۔ زخمیوں میں 1500 ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جن کے چہروں پر چھّرے لگے ہیں اور ان میں سے 600 کی آنکھیں متاثر ہیں۔

رات کے دوران بستیوں کے کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے اور علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ تاریخی جامعہ مسجد مقفل ہے اور وہاں 120روز سے اذان نہیں دی جا سکی ۔ ظلم و زیادتیوں کی یہ داستان کس پس منظر میں رقم ہوئی؟

گذشتہ موسم گرما میں آٹھ جولائی کی شام جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقے میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مقبول مسلح رہنما برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ساڑھے تین منٹ کے آپریشن میں ہلاک کیا گیا۔ برہان پہلے مسلح رہنما ہیں جو نقاب پوش نہیں تھے اور اپنے اصلی نام کے ساتھ سوشل میڈیا پر متعارف ہوئے۔

فوجی وردی میں ملبوس 21 سالہ برہان وانی کشمیر میں نحیف ہی سہی مگر ایک نئی مسلح مزاحمت کی تازہ علامت کے طور پر اُبھرے تھے۔ ان کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی اور جنوبی کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع سے لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے برہان کے آبائی قصبہ ترال کی طرف چل پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حُریت کانفرنس نے لوگوں سے کہا ہے کہ یہ 'کرو یا مرو' کی صورت حال ہے

یہ پہلا موقعہ نہیں تھا کہ لوگ کسی مسلح شدت پسند کے جنازے میں جوق در جوق جارہے تھے۔ اس سے قبل پاکستانی شدت پسند ابو قاسم کے جنازے میں پولیس ریکارڈ کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور اس دوران لشکر طیبہ کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔ اسی روایت کے تحت لوگوں کا ایک سمندر برہان کے جنازے کی طرف لپک پڑا، لیکن فورسز نے ہر گلی محلہ اور ہر بستی سے نکلنے والے لوگوں پر گولیوں اور چھرّوں کی بارش کردی۔

برہان وانی کی تعزیت کے لیے چار روز تک لوگوں نے ترال جانے کی کوشش کی لیکن فورسز نے مسلسل طاقت کا استعمال کرکے ان کی کوششوں کو ناکام کردیا جس کے نتیجہ میں صرف چار روز کے دوران 44 افراد مارے گئے اور دو ہزار زخمی ہوگئے۔ جنازے میں شرکت پر پابندی کی اس سرکاری پالیسی کے خلاف وادی بھر میں احتجاج بھڑک اُٹھا اور پھر لگاتار چار ماہ تک مظاہروں اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اس ساری صورتحال کے درمیان سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میرواعظ عمر فاروق نے طویل عرصے سے جاری اختلافات کو پس پشت ڈال کر ’متحدہ مزاحمتی قیادت‘ کا قیام عمل میں لایا اور اس قیادت نے احتجاجی مظاہروں کے ہفت وار کیلنڈر جاری کرنا شروع کیے۔ ہڑتال تو جاری رہی، تاہم مظاہروں اور مارچ کرنے کے پروگرام میں ردوبدل ہوتی رہی۔ ظاہر ہے حکومت نے کسی بھی مارچ کی اجازت نہیں دی اور ہر بار حریت کے کیلنڈر کو سخت ترین کرفیو، ناکہ بندی اور گرفتاریوں سے ناکام بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رات کے دوران بستیوں کے کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے

اس دوران کئی سماجی حلقوں نے حریت کانفرنس کے وژن پر تنقید کی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بہت اُونچے مقصد کے لیے نہایت قلیل المدتی یا شارٹ ٹرم طریقہ کار اپنایا گیا جس کی وجہ سے حکومت ہند نہیں بلکہ خود کشمیری عوام متاثر ہوئے۔ تاہم مظاہرین کے خلاف پولیس کی طرف سے جارحانہ آپریشن اور اس کے باعث ہونے والے جانی نقصان کی وجہ سے حُریت کی حکمت عملی پر ہونے والی یہ تنقید پس منظر میں چلی گئی۔

حُریت کانفرنس نے لوگوں سے کہا ہے کہ یہ ’کرو یا مرو‘ کی صورت حال ہے اور اسی انقلاب کی وجہ سے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا۔ حریت کا خیال تھا کہ اس تحریک سے ’عالمی ضمیر جاگ جائے گا‘ اور اقوام متحدہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ سنہ 1947 سے لیکر سنہ 1950 تک منظور کی گئی 18 قراردادوں پر عمل کرکے ایک کروڑ 30 لاکھ کشمیریوں کے لیے رائے شماری کا اعلان کرے گا۔ پاکستان نے بھی اپنی طرف سے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کر دی اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے۔

لیکن چار ماہ گزر جانے کے بعد ’عالمی ضمیر‘ ہی جاگا نہ اقوام متحدہ نے رائے شماری کا اعلان کیا۔ اب تو سرحدوں پر پاکستان اور بھارت فوجیں جنگی تیاری میں مصروف ہیں اور سرحدی آبادیاں خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ حکومت ہند اگر علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا ہی اعلان کرتی تو حریت کانفرنس اپنے گرینڈ ایجنڈا پر نظر ثانی کرسکتی تھی، لیکن مودی سرکار نے تہیہ کررکھا ہے کہ ’قوم دشمن قوتوں کو کوئی سیاسی رعایت نہیں دی جائے گی۔‘ حکومت تو اب کشمیر کو سیاسی تنازع بھی نہیں بلکہ امن و قانون کا مسئلہ سمجھتی ہے، جسے پولیس اور فوج کی مدد سے حل کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سید علی گیلانی، میرواعظ عمر اور یاسین ملک کی متحدہ مزاحمتی قیادت ہڑتال سے متعلق کوئی فیصلہ لینے سے کیوں قاصر ہے؟

اس صورتحال میں حریت کانفرنس کی کال پر مسلسل ہڑتال جاری ہے۔ ہفتے میں تین دن شام کو چند گھنٹوں کے لیے ہڑتال میں نرمی کی جاتی ہے اور اس مختصر وقفے میں لوگ ضروری اشیا کی خریداری کرتے ہیں۔ وادی میں تعلیم تو معطل ہے ہی سیاحت کا بھی جنازہ نکل چکا ہے۔

تجارتی انجمنوں کا کہنا ہے کہ روزاہ کم از کم 150 سو کروڑ روپے کا تجارتی خسارہ ہورہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کشمیر کو اب تک 18000 کروڑ روپے کا مالی خسارہ اُٹھانا پڑا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران حکومت کو صرف 1200کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ دو ہی سال قبل تباہ کن سیلاب کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو تاریخی دھچکا لگا تھا۔ تجارتی انجمنوں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا جبکہ سرکاری تخمینہ 44000 ہزار کروڑ روپے ہے۔

ہڑتال کی افادیت، حکومت ہند کی ہٹ دھرمی اور عالمی حالات کا تجزیہ اخباری کالموں میں ہوتا رہا ہے، لیکن حریت کانفرنس کو لگتا ہے کہ ہڑتال ختم کی گئی تو تحریک ختم ہوجائے گی۔

مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہڑتال اور تجارتی و تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنا دراصل اشتراکی طریقہ مزاحمت ہے، جو اُنیسویں صدی کے یورپ میں اس لیے کامیاب ہوا کیونکہ ہڑتال کی وجہ سے حکومت کے کارخانوں میں پیداوار ٹھپ ہوجاتی تھی اور حکمران مذاکرات کے لیے آمادہ ہوجاتے تھے۔ محقق الطاف بشیر کہتے ہیں:’آج کی معیشت لوگوں کی نجی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ آپ ہڑتال کرکے حکومت کا کچھ نہیں بگاڑتے، آپ مزاحمت کو قوت دینے والی اپنی ہی معیشت برباد کررہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تجارتی انجمنوں کا کہنا ہے کہ روزاہ کم از کم 150 سو کروڑ روپے کا تجارتی خسارہ ہورہا ہے

لیکن اس کے باوجود سید علی گیلانی، میرواعظ عمر اور یاسین ملک کی متحدہ مزاحمتی قیادت ہڑتال سے متعلق کوئی فیصلہ لینے سے کیوں قاصر ہے؟ یاسین ملک نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے: ’یہ لوگوں کی تحریک ہے۔ ہم لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ لوگ جب کہیں گے کہ ہڑتال ختم ہونی چاہیے تو ہم اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

عجیب بات ہے کہ یہاں کی تجارتی انجمنوں نے پہلے ہی حریت کانفرنس کو اعتماد دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں تجارتی خسارہ کی فکر نہیں ہے، اگر واقعی ہڑتال سے مسئلہ کشمیر ہوتا ہے حریت کانفرنس جب تک چاہے ہڑتال کرے ۔ لیکن اب حریت کانفرنس نے کالم نویسوں، سماجی رضاکاروں، تجارتی انجمنوں کے نمائندوں اور دوسرے سماجی و سیاسی حلقوں کا اجلاس منگل کو طلب کیا ہے۔ ان حلقوں سے رائے لی جائے گی کہ تحریک آزادی کو آگے لے جانے کے لیے کون سا طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے؟

لیکن مبصرین حریت کانفرنس سے پوچھتے ہیں کہ جنازے میں شرکت کے خلاف حکومت کی فوجی مداخلت پر بھڑکے جذبات کو ’کرو و مرو‘ کی صورتحال کیونکر قرار دیا گیا؟ دنیا میں ایسی کون سی بڑی تبدیلی رونما ہوئی کہ حریت نے کہا ’آزادی تک احتجاج جاری رہے گا۔‘

ظلم و زیادتیوں کی جو خونین داستان سرکاری فورسز نے گذشتہ چار ماہ کے دوران رقم کی ہے، اس کا سیاسی خمیازہ حکمران جماعت کو اٹھانا ہی پڑے گا، لیکن منگل وار کو حریت اور لوگوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران کچھ تکلیف دہ سوالات بھی اُٹھائے جائیں گے۔ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے اعلان سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ طریقہ کار سے متعلق حریت کانفرنس نئی حکمت عملی پر آمادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں