دہلی کی آلودہ فضا، ماسکس کی قلت

Image caption کیا چہرے کا ماسک اور ہوا صاف کرنے والے آلات دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے کا حل ہیں؟

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے شہریوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور چہرے کے ماسک کی خریداری کے لیے لوگ قطاروں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ شہر میں ماسکس کی قلت بھی ہو گئی ہے۔

نئی دہلی کی خان مارکیٹ کے ایک شاپنگ پلازہ میں ایک گاہک دکاندار پر چلا رہا تھا کہ 'میں سارا دن انتظار کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن میں آج ماکس خریدے بغیر نہیں جاؤں گا۔'

ماسک خریدنے والے دیگر افراد بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں جن میں کچھ دو گھنٹے سے زائد ماسکس کا انتظار کر رہے تھے۔

یہ دکان جہاں اعلیٰ قسم کے ووگ ماسکس برانڈ کے ماسک فروخت کیے جاتے ہیں، ان کا سارا ذخیرہ بک چکا ہے اور گاہکوں کو دوپہر تک انتظار کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ ماسک عام طور پر مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں میں آتا ہے لیکن فروخت میں اضافے کے باعث جس کے ہاتھ جو بھی لگ جاتا ہے وہ اس میں خوش ہے۔

جے ڈھار گپتا جنوبی ایشیا میں ووگ ماسکس درآمد کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس سال طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور لوگوں کو گھر میں رہ کر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے

جے ڈھار گپتا ایک ماحولیاتی کارکن بھی ہیں اور وہ کہتے ہیں: 'ہم سنگاپور اور ہانگ کانگ میں اپنی دکانوں سے منگوا رہے ہیں اور اس کے باوجود طلب پوری نہیں ہورہی۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'ہم نے گذشتہ دس دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں ماسک فروخت کیے ہیں کیونکہ اس سال آلودگی کا تناسب توقع سے کہیں گنا زیادہ ہے۔'

یہ قطاریں محض دکانوں کے باہر نہیں ہے۔ آن لائن اشیا فروخت کرنے والوں کو بھی گذشتہ چند ہفتوں سے بھرپور طلب اور گھر تک ماسک پہنچانے میں مشکل کا سامنا ہے۔

لوگوں کی مایوسی کو سمجھنا مشکل نہیں ہے کیونکہ گذشتہ چند دنوں میں دہلی نے تشویش ناک حد تک آلودگی کا تناسب دیکھا ہے۔

سکول بند کر دیے گئے ہیں اور لوگوں کو گھر میں رہ کر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ماسک اور ہوا صاف کرنے والے آلات خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

وکیل مرتینجے کمار کہتے ہیں: 'میں اور کیا کر سکتا ہوں؟ حکومت ہماری حفاظت کے لیے کچھ بھی نہیں کرتی، مجھے ہی کچھ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے کچھ کرنا ہے۔ اس کا آغاز میں ماسک اپنے پورے خاندان کے لیے خریدنے سے کر رہا ہوں۔'

Image caption وکیل مرتینجے کمار اپنے خاندان کے لیے ماسکس خرید رہے تھے

جے ڈھار گپتا کا کہنا ہے کہ 'حکومت آتشبازی اور ڈیزل گاڑیوں پر پابندی جیسے سادہ اقدام اور زرعی فضلے کو آگ لگانے والے کسانوں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔'

وہ کہتے ہیں: 'ایسا لگتا ہے جیسے شہر پر کسی نے کیمیائی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔'

شہر میں رہنے والے غیرملکی بھی ماسک خریدنے کے لیے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔

امریکی شہری جوش ہوفمین دہلی میں عرصہ دراز سے قیام پذیر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 'اس سال فضا خاص طور پر زہریلی ہے۔'

وہ کہتے ہیں: 'میں موٹوسائیکل چلاتا ہوں اور میرے خیال میں ماسک سے مجھے مدد ملے گی اور اسی لیے میں اس قطار میں ہوں۔'

لیکن کیا چہرے کا ماسک اور ہوا صاف کرنے والے آلات دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے کا حل ہیں؟

ماحولیاتی کارکن اور انڈیا میں کیمبرج ماسکس درآمد کرنے والے بارن اگروال کہتے ہیں: 'نہیں، یہ اشیا عارضی آرام کے لیے ہیں اور ہر کوئی انھیں خرید بھی نہیں سکتا۔ ہمیں دیر پا حل کی تلاش ہے اور یہ اس کا آغاز عوام کو اس فضا میں سانس لینے کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے سے ہونا چاہیے۔'

وہ کہتے ہیں کہ لوگ 'نہیں سمجھتے کہ زہریلی ہوا سے پھیپھڑوں کا سرطان اور دیگر جان لیوا بیماریاں ہو سکتی ہیں۔'

وہ کہتے ہیں: 'میں موٹوسائیکل چلاتا ہوں اور میرے خیال میں ماسک سے مجھے مدد ملے گی اور اسی لیے میں اس قطار میں ہوں۔'

Image caption شہر میں رہنے والے غیرملکی بھی ماسک خریدنے کے لیے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں