چین: کوششوں کے باوجود کنویں میں گرنے والے بچے کو بچایا نہیں جا سکا

تصویر کے کاپی رائٹ The Paper
Image caption یہ خشک کنواں گذشتہ پانچ سالوں سے استعمال نہیں ہوا اور وہاں پر کوئی وارننگ سائن بھی نہیں لگایا گیا تھا

چین کے ایک کنوئیں میں گر جانے والے پانچ سالہ اس بچے کو نہیں بچایا جا سکا جسے گذشتہ چار روز سے زندہ نکالنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔

چین کے صوبے ہیبی میں اتوار کی صبح ایک 80 میٹر گہرے خشک کنویں میں یہ بچہ گر گیا تھا۔

اس لڑکے کے والد نے سوشل میڈیا پر مدد کے لیے کہا تھا جس کے بعد تقریبا 500 رضاکار مدد کے لیے پہنچے اور زبردست کھدائی کا کام شروع کیا گيا تھا۔

اسے نکالنے کے لیے کھدائی کرنے والی 60 مشینیں اور کوڑا اٹھانے والے 100 ٹرک استعال کیے گئے۔

چونکہ 30 سینٹی میٹر قطر والے خشک کنویں میں کسی بالغ شخص کا اترنا مشکل ہے اس لیے اسے بچانے کے لیے کھدائی ہی ایک راستہ بچا تھا۔ لیکن مٹی گیلی تھی اس وجہ سے یہ عمل بھی متاثر ہوتا رہا جس کی وجہ سے کافی دیر لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس آپریشن میں تقریبا سو گھنٹے کا وقت لگا لیکن جب بچے تک رسائی حاصل ہوئی تو ان میں جان باقی نہیں بچی تھی۔

گلوبل ٹائمز نے بعض اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس آپریشن میں تقریبا سو گھنٹے کا وقت لگا لیکن جب بچے تک رسائی حاصل ہوئی تو وہ زندہ نہیں رہا تھا۔

ایک رضا کار نے شنگھائی کی نیوز ویب سائٹ کو بتایا تھا کہ امدادی کارکنوں کے کام کرنے کے لیے 800 مربع میٹر علاقے کو خالی کروایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ خشک کنواں گذشتہ پانچ سالوں سے استعمال نہیں ہوا تھا اور وہاں پر کوئی وارننگ سائن بھی نہیں لگایا گیا تھا۔

چین کی مقبول وی چیٹ ایپ پر اس خبر کے آنے کے بعد متعدد رضاکار بچے کو تلاش کرنے میں مدد کرنے پہنچے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اس پر افوس کا اظہار بھی کیا تھا۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک ماں کے طور پر یہ خبر پڑھنا بہت دکھ والی بات ہے اور میرا دل بہت افسردہ ہے کہ ایک بچہ کنویں میں گر گیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ وہ بچے زندہ سلامت کنویں سے باہر آ جائے۔

دیگر صارفین اس بات پر حیران ہیں کہ اس واقعہ کا ذمہ دار کسے قرار دیا جائے۔