صدارتی انتخاب: چین کے لیے امریکی طاقت کو کمزور کرنے کا موقع

ٹرمپ چین تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جس لمحے ڈونلڈ‌ ٹرمپ اپنی فتح کے بعد تقریر کر رہے تھے، چینی ٹی وی چینلز ایک خلائی مشین کی خصوصی فٹیج دکھا رہے تھے

وہ اپنے ملک میں تو جیت چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا نعرہ 'میک امریکہ گریٹ اگین' یعنی پھر سے امریکہ کو عظیم بنائیں، اب چین کے نعرے کے مدمقابل ہے۔ چین کا پسندیدہ نعرہ تھا کہ چینی قوم اور چینی خواب کو دوبارہ زندہ کرنا ہے

مختصراً یہ کہ جس لمحے ڈونلڈ‌ ٹرمپ اپنی فتح کے بعد تقریر کر رہے تھے، چینی ٹی وی چینلز ایک خلائی مشن کی خصوصی فٹیج دکھا رہے تھے ۔ صدر شی جن پنگ نے بھی سٹلائیٹ لنک کے ذریعے چینی خلابازوں سے بات چیت کے لیے امریکی انتخابی نتائج کا انتخاب کیا۔

اس خیال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ان کے لیے جان ایف کینیڈی کا 'ہم نے چاند پر جانے کا فیصلہ کیا ہے' لمحہ تھا، یہ عوام کو اس پیغام کی یادہانی تھی کہ دنیا میں چاہے کچھ بھی ہو رہا چینیوں کے ابھرنے کا بیانیہ اپنے راستے پر رہے گا۔

نجی طور پر صدر شی جن پنگ شاید امریکہ میں ایک کامیابی پر بھی جشن منا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر شی جن پنگ نے بھی سٹلائیٹ لنک کے ذریعے چینی خلابازوں سے بات چیت کے لیے امریکی انتخابی نتائج کا انتخاب کیا

جیسا کہ میں نے پہلے کئی بار ذکر کیا کہ امریکہ انتخاب کی دوڑ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے لیے ایک تحفہ رہا ہے۔ دوسری جانب اکثر امریکہ میں بھی اس کے مادی، ثقافتی یا سیاسی طور پر ترقی پذیر ہونے کے بارے میں کم بات کی جاتی ہے۔

یہ کوئی حادثاتی امر نہیں کہ صدر شی جن پنگ کے چین کے خواب کے نعرے میں امریکی خواب کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ابھرتی ہوئی سپر پاور کے لیے اسے امریکہ کو زیر کرنا ہوگا۔

گذشتہ کئی برسوں سے چینی تجزیہ کار اکثر یہ کہتے آئے ہیں کہ افغانستان اور عراق میں امریکی جنگوں سے چینی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے کہ امریکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں قیادت کر سکتا ہے اور سنہ 2008 کے اقتصادی بحرانی سے چین کے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے کہ امریکہ پر عالمی اقتصادیات کی قیادت کے لیے بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔

اب ایک انتہائی تلخ اور سکینڈلز سے بھری صدارتی دوڑ نے چین نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے کہ امریکی اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نومنتخب صدر کے بارے میں متضاد عوامی آرا پائی جاتی ہیں

اگرچہ چینی حکومت نے انتہائی محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے انتخابی مہم یا امیدواروں کے بارے میں براہ راست بیان بازی سے اجتناب کیا تھا لیکن اس کے سرکاری کنٹرول کے حامل میڈیا نے انتخابی دوڑ میں تقسیم اور تعصب کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ صدارتی انتخاب میں بیجنگ کے اس موقف کی گونج سنائی دیتی رہی کہ امریکی نظام میں امیر طبقے کے حق میں دھاندلی کی گئی ہے۔

اور چینی میڈیا میں یہ بارے میں طویل مباحثے پیش کیے گئے جس میں انتخابی جمہوریت کی خالی جذباتیت کے مقابلے میں ملک میں ایک پارٹی کے نظام کی خصوصیات اور اہلیت کے مطابق اختیار اور مقام دینے کے تجربات بیان کیے گئے۔

ایک ایسی قوم جس نے ماضی قریب میں خانہ جنگی کا سامنا کیا اور کٹر 'ثقافتی انقلاب' کا خوف ابھی ان کے ذہنوں میں ہے اس کے لیے امریکی انتخابی مہم کی کڑواہٹ کسی پری کی کہانی نہیں رہی جو کبھی امریکی جمہوریت کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔

تاہم نومنتخب صدر کے بارے میں متضاد عوامی آرا پائی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ کوئی حادثاتی امر نہیں کہ صدر شی جن پنگ کے چین کے خواب کے نعرے میں امریکی خواب کی گونج سنائی دیتی ہے

بہت سارے چینی ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک کاروباری شخصیت، سیدھی بات کرنے والے اور ایک باہر کے آدمی کے طور پر تعریف کرتے ہیں۔ اگر آئندہ چار برسوں میں وہ 'امریکہ کو دوبارہ عظیم' بنا دیتے ہیں تو وہ سیاسی نظام جس کی وہ پیداوار ہے دوبارہ کچھ معتبریت حاصل کرلے گا۔

لیکن اگر 'چین کے خواب' کے پیچھے سرگرم ٹیم چینیوں کو امیر بنا رہی ہے، مریخ پر راکٹ بھیج رہی ہے اور ایشیا میں اپنا اثررسوخ قائم کر رہی ہے تو نو نومنبر 2016 کے دن چین نے امریکی خواب کو ہمیشہ کے لیے کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اسی دوران چینی حکومت کو ایک ایسے امریکی صدر کا سامنا ہے جس کا کوئی سیاسی ماضی نہیں، ان کی ٹیم کے بارے میں معلوم نہیں اور چین کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مہم میں کہا تھا کہ 'ہم چین کے ساتھ اچھے انداز میں چلیں گے۔' لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'وہ آتے ہیں، ہماری نوکریاں لیتے ہیں، وہ اپنی قسمت بناتے ہیں۔ ہم دنیا کی سب سے بڑی نوکریوں کی چوریوں کی تاریخ میں جی رہے ہیں۔'

اور عموماً وہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کے جغرافیائی سیاسی ماہرین اب یہ امید کریں گے کہ امریکی صدارت خطے سے امریکی طاقت کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کرے گی

ان کا کہنا تھا: 'ہم نے چین کے ساتھ بہت اچھے معاہدے کیے ہیں۔ ’چین حیران کن ہے۔ مجھے چین پر غصہ نہیں ہے۔ میں اپنے لوگوں پر غصہ ہوں کہ وہ اس کو ایسا کرنے دے رہے ہیں۔۔۔ چین حیران کن ہے لیکن وہ قتل کرکے بچ رہے ہیں۔'

'امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے' کے وعدے کے ساتھ انھوں نے اکثر کہا تھا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں ضرور 'جیتنا' ہوگا۔

لیکن گذشتہ چار دہائیوں کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے امریکی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو دیکھنا سیکھا ہے۔

انھوں نے امریکی صدور کو آتے اور جاتے دیکھا، مہم کے دوران چین کو دھمکیاں دیتے اور اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد خاموشی سے بات چیت کی پالیسی دوبارہ اپناتے دیکھا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب چین نے معاشی پیدوار لڑکھڑاہٹ کا شکار ہے امریکی منڈیوں تک رسائی انتہائی اہم ہے اور آئندہ آنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے تجارتی تحفظات بیجنگ کے لیے خطرہ ہیں۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تجارت کے اس کھیل میں چین ڈونلڈ ٹرمپ کو ایشیا میں جغرافیائی سیاست میں کچھ ڈھکے چھپے مفادات کے بدلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کچھ مفادات فراہم کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی حکومت نے انتہائی محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے انتخابی مہم یا امیدواروں کے بارے میں براہ راست بیان بازی سے اجتناب کیا

یہیں ڈونلڈ ٹرمپ چین کے لیے ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ انتخابی مہم میں وہ اپنے حریف کے مقابلے میں ایشیا میں امریکی کاروباری عزائم کے مقابلے میں خاصے نرم گو دکھائی دیے تھے۔

وہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایشیا میں اقتصادی معاملات پر سخت نالاں تھے۔

یہاں تک کہ عسکری حوالے سے ڈونلڈ‌ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے جاپان اور جنوبی کوریا جیسے طویل المدتی اتحادی ممالک کو امریکی فوج کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ادائیگی کرنا چاہیے۔

علاقائی ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی تنہائی یا تجارتی تحفظات یا بیجنگ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بڑی سودا بازی تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین کو خطرے سے دوچار کر دے گی، اور ایشیا سے امریکی قیادت کو ختم کر دی گی جب فلپائن، ملائشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ ان کے سٹریٹیجک مفادات کس جانب ہیں۔

چین کے سیاسی ماہرین اب یہ امید کریں گے کہ امریکی صدارت خطے سے امریکی طاقت کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کرے گی اور ایشیا کا نیا نقشہ سامنے آئے گا۔ وہ کسی حد تک درست بھی ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں