انڈیا: کرنسی نوٹ پر پابندی کے بعد بینکوں میں افراتفری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام لوگوں کو نقد کرنسی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے روز مرہ کے لین دین میں شدید مشکللات کا سامنا ہے

انڈیا میں حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر پابندی لگائے جانے کے تین روز بعد بھی لاکھوں لوگ نقد پیسوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور بینکوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔

بی بی سی نے دلی اور ممبئی شہر کے کئی اے ٹی ایم کا دورہ کیا اور یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اے ٹی ایم یا تو بند ہیں یا پھر اس میں نوٹ نہیں نکل رہے ہیں۔

حکومت نے کرنسی نوٹ پر پابندی کے بعد گھنٹوں کے لیے اے ٹی ایم بند کر دیے تھے جن کے کھلنے کے بعد پیسہ نکالنے کے لیے صبح سے سینکڑوں لوگ قطار میں کھڑے ملے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کو بلیک منی یا کالے دھن پر قابو پانے کے لیے ختم کیا ہے لیکن اس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

کم آمدن والے کاروباری، بڑے تاجر اور وہ عام لوگ جن کی زندگی اور کاروبار نقد پیسوں پر منحصر ہے حکومت کے اس قدم سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہزار روپے کا نیا نوٹ جمعرات کو متعارف کروایا گیا ہے

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کی رات کو اچانک ایک ہزار روپے اور پانچ سو کے کرنسی نوٹوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بدھ کے روز بینک بند کر دیے گئے تھے۔

اب لاکھوں لوگ نوٹ تبدیل کرنے کے لیے بینکوں کا چکر لگا رہے ہیں اور بینکوں میں زبردست بھیڑ دیکھی جا سکتی ہیں۔

ادھر حکومت کا کہنا ہے کہ لوگوں کے پاس کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لیے 30 دسمبر تک کا وقت ہے اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن عوام کو اس سلسلے میں کافی شکایتیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا پہلے بھی ہوا ہے تاہم اس بار حکومت نے وقت بہت کم دیا اس لیے لوگ زیادہ پریشان ہیں۔

حکومت کے اعلان کے مطابق بینک میں ایک ہزار اور پانچ سو کے کرنسی نوٹ کو تبدیل کرکے چار ہزار روپے تک تو نقد پیسہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے علاوہ اضافی کرنسی کا تمام پیسہ ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض بینکوں نے اپنے اوقات کار میں اضافہ کیا ہے جبکہ لوگوں کی بھیڑ کے باعث عارضی بنیادوں پر مزید افراد کو بھرتی بھی کیا گیا ہے

بینکوں میں موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس ہفتے تمام بینک سنیچر اور اتوار کے روز بھی کھلے رکھنے فیصلہ کیا کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز بینک بند رہے تاکہ انھیں نئے نوٹ جمع کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے رقوم نکلوانے کو بھی محدود کیا گیا ہے۔

نوٹوں کی تبدیلی کے سلسلے میں ممبئی اور دہلی میں بینکوں کے باہر زبردست بدنظمی کے مناظر دیکھے گئے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کے اس قدم سے کاروباری طبقے کو سب سے زیادہ مشکلیں پیش آرہی ہیں اور ممبئی، دہلی، اور حیدرآباد جیسے شہروں میں سو روپے کے نوٹ کی قلت کے سبب چھوٹے اور بڑے تاجروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوٹوں کی تبدیلی کے سلسلے میں ممبئی اور دہلی میں بینکوں کے باہر زبردست بدنظمی کے مناظر دیکھے گئے

بازار میں اب کوئی ہزار روپے اور پانچ سو کا نوٹ نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے افراتفری کا ماحول ہے۔ خاص طور وہ خاندان شدید پریشانی کا شکار ہیں جن کے یہاں شادیاں یا کوئی تقریب ہے اور انھیں پیسوں کی ضرورت ہے۔

اس دوران حکومت نے دو ہزار روپے کا جو نیا کرنسی نوٹ تیار کیا ہے وہ بازار میں آگیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ بعض تبدیلیوں کے ساتھ نیا ہزار روپے کا نوٹ بھی چند ماہ میں تیار ہوکر آ جائے گا۔ `

لیکن یہ نیا کرنسی نوٹ ابھی بڑے شہروں کے بعض علاقوں تک ہی پہنچا پایا ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں کرنسی نوٹ دستیاب نہیں ہیں۔

اس سے عوام کی مشکلیں بھی کم نہیں ہوئیں کیونکہ دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کے چینج یا کھلے پیسے ملنے مشکل ہیں اس لیے بیشتر دکاندار اسے بھی لینے سے انکار کرتے ہیں۔ اس وقت دو ہزار کے نوٹ کے بعد سب سے بڑا سو روپے کا نوٹ ہے۔

اسی بارے میں