اس منصوبے کو راز رکھنا ضروری تھا: مودی

بینک کے آگے بھیڑ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں تقریبا ہر بینک کے سامنے ایک بھیڑ یکجا ہے اور کہیں کہیں تو پولیس کو بھی تعینات کیا گيا ہے

انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ زیادہ مالیت کے کرنسی نوٹ کو واپس لینے کے منصوبے کو راز رکھنا ضروری تھا۔

بدعنوانی کے خلاف اٹھائے جانے والے اس قدم کا آغاز چار روز قبل ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک بینکوں اور اے ٹی ایم مشین کے سامنے لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

انڈیا: کرنسی نوٹ پر پابندی کے بعد بینکوں میں افراتفری

دارالحکومت دہلی سے ہمارے نمائندے مرزا عبدالباقی نے بتایا کہ اتوار کو صبح سے ہی تمام بینکوں کے سامنے قطاریں لگی ہوئی ہیں جو کہ گذشتہ روز کے مقابلے میں کہیں زیادہ لمبی ہیں۔

بہت سے لوگ پرانے کرنسی نوٹ بدلوانے کے لیے قطار میں ہیں تو بہت سے روز مرہ کی ضرورت کے لیے پیسے نکالنے کے لیے انتظار میں ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا: 'اسے اچانک کیا جانا تھا لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے لیے مجھے دعائیں ملیں گی۔'

انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف لڑائی کے لیے مزید طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے لوگوں سے صبر کی تلقین کی اور کہا کہ چند ہفتوں میں پرانے کرنسی نوٹ پوری طرح سے بدل دیے جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ کالعدم قرار دیے جانے والے کرنسی نوٹ مجموعی کرنسی نوٹ کا 85 فیصد تھے۔

مسٹر جیٹلی نے کہا کہ ملک بھر سے اب تک 30 ارب پرانے کرنسی نوٹ بینک میں جمع کیے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا نے دو ہزار کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے ہیں اور یہ بھی تنازع کی وجہ ہے کہ آخر اس کے پیچھے کیا سوچ کارفرما ہے

لیکن دہلی سے بی بی سی کے نمائندے سنجوے مجمددا کا کہنا ہے کہ ابھی بھی بینک کے آگے افراتفری کا ماحول ہے اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے۔

بعض تاجروں اور چھوٹے دکانداروں نے ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف بھی اس اچانک لیے جانے والے اقدام کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ دیہی اور شہری غریب اس کی زد میں آئے ہیں۔

لیکن مسٹر مودی نے اپنی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے جس نے اس فیصلے کو 'قوم کے مفاد میں قبول کیا ہے۔'

اور انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کرنسی نوٹ کی واپسی کی آخری تاریخ 30 دسمبر کے بعد اس بات کی 'کوئی گارنٹی' نہیں کہ نئے طریقے نہ اپنائے جائيں۔

انھوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف اس مہم میں 'کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا لیکن ایماندار افراد کو کوئی مشکل نہیں ہوگی۔'

مسٹر مودی کے حیران کن اعلان کے بعد بدھ کو بینک بند رہے تھے لیکن جب جمعرات کو بینک کھلے تو وہاں لوگوں کی بہت بھیڑ تھی اور بینک سے رقم نکالنے پر ایک حد مقرر کی گئی ہے یعنی کوئی بھی ہفتے بھر میں 20 ہزار سے زیادہ رقم نہیں نکال سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں