'پتھراؤ سپانسرڈ نہیں ہوتا'

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منوہر پریکر نے ایسے وقت بیان دیا ہے، جب کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی جانے والی روزانہ ہڑتال کی کال کا جزوی اثر ہوتا ہے

بھارتی وزیردفاع منوہر پریکر کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹوں میں تبدیلی کے باعث جہاں دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورک پر حکومت کی گرفت مضبوط ہوگئی ہے وہیں کشمیر میں چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہند مخالف تحریک بھی ڈھیلی پڑ گئی ہے۔

کشمیری سماج کے مختلف حلقوں نے اس بیان پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انجنئیر خورشید احمد سمجھتے ہیں کہ روپوش مسلح گروپوں کی سرگرمیوں پر ضرور اثر پڑے گا اور اسی وجہ سے کشمیر میں بھی حالات بحال ہو سکتے ہیں۔

تاہم سمیرا نامی طالبہ کہتی ہیں ’دہشت گردی تو ایک عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دہشت گردی نہیں ہے۔ یہاں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں اور سرکاری فورسز ان پر گولیوں اور چھرّوں کی بارش کرتی ہیں۔ کوئی چند روپوں کے لیے سینے پر گولی نہیں کھاتا۔ منوہر پریکر نے کشمیر کے حالات کو سمجھے بغیر یہ بیان دیا ہے۔‘

سینٹرل یونیورسٹی میں زیرتعلیم ثںا مٹو کہتی ہیں ’دہشت گردی پر کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کا اثر تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن اس کو یہاں کے احتجاج یا پتھراؤ سے جوڑنا کشمیریوں کی تذلیل ہے۔ پتھراؤ تو لوگوں کا غصہ ہے، ان کا ردعمل ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو لوگ پتھر اُٹھاتے ہیں۔ پتھراؤ تو لوگوں کا غصہ ہے، پتھراؤ سپانسرڈ نہیں ہوتا۔‘

سرینگر کے رہنے والے صاحب جلالی کہتے ہیں کہ پتھراؤ یا پرتشدد احتجاج کا تعلق سرکاری فورسز کی زیادتیوں کے ساتھ ہے نہ کہ پیسے کے ساتھ۔ ’جب کسی کا بھائی فائرنگ میں مارا جائے تو وہ پتھراؤ کرتا ہے۔ پتھراؤ کرنے والوں کے گینگ نہیں ہیں یا انھیں کوئی پیسہ دے کر پتھر مارنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ایسا ہوتا تو یہ کچھ علاقوں تک محدود ہوتا۔ آپ نے خود دیکھا کشمیر کا چپہ چپہ سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔‘

تاہم منوہر پریکر نے ایسے وقت بیان دیا ہے، جب کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی جانے والی روزانہ ہڑتال کی کال کا جزوی اثر ہوتا ہے۔ حالانکہ یونیورسٹی اور کالج بند ہیں، تاہم ایک لاکھ طلبا و طالبات دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں شریک ہو رہے ہیں۔

سڑکوں پر عام مسافروں کا ٹرانسپورٹ تو نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم نجی گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے اور کئی علاقوں میں دکانیں بھی کھلنے لگی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چونکہ ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ہڑتال نے بھی طول پکڑ لیا ہے، اب مظاہروں کی تعداد کم ہوگئی ہے

کیا واقعی کرنسی نوٹوں میں تبدیلی سے کشمیر کے حالات میں سدھار آیا ہے؟ صاحب جلالی کہتے ہیں ’جب سرکاری فورسز ظلم کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو ہلاک کرتی ہیں اور ان کی آنکھوں پر چھرے فائر کرتی ہیں، تو عوام میں غصہ بڑھ جاتا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں سے ہلاکتوں اور ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ جس رفتار سے ظلم کم ہوتا ہے، اسی رفتار سے ہڑتال یا احتجاج میں کمی آتی ہے۔ اس میں کرنسی نوٹ کہاں سے آ گئے؟‘

واضح رہے کشمیر میں آٹھ جولائی کو پولیس کاروائی میں مسلح رہنما برہان وانی کے مارے جانے کے بعد وادی بھر میں احتجاج کی لہر بھڑک اُٹھی تھی۔

دراصل کئی برسوں سے ہزاروں لوگ جھڑپوں میں مارے جانے والے مسلح شدت پسندوں کے جنازوں میں شریک ہو رہے تھے۔ آٹھ جولائی حسب معمول لوگوں نے برہان وانی کے جنازے میں شامل ہونے کی کوشش کی تو ان پر جگہ جگہ گولیاں برسائی گئیں۔ صرف دو روز کے دوران 44 افراد مارے گئے اور 2000 زخمی ہوگئے۔

جنازے پر اس پابندی کے خلاف عوامی غم و غصہ شدید ہو گیا اور بعد میں علیحدگی پسندوں نے ہفت وار احتجاجی کلینڈر جاری کرنا شروع کردیا۔ چار ماہ تک ہلاکتوں اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اب چونکہ ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ہڑتال نے بھی طول پکڑ لیا ہے، اب مظاہروں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ ہلاکتوں میں کمی کے باعث ساڑھے چار ماہ سے جاری ہند مخالف تحریک کی شدّت بھی کم ہو گئی ہے۔