انڈیا میں مسلم مبلغ ذاکر نائیک کی تنظیم پر پانچ برس کی پابندی عائد

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption چند ماہ جب پہلی بار جب ذاکر نائیک پر ایسے الزامات لگے تھے تو وہ ملک سے باہر تھے اور اس وقت سے وہ انڈیا واپس نہیں آئے ہیں

انڈیا کی حکومت نے ملک کے معروف مسلم مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کے ادارے 'اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن' پر پانچ برس کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کے ادارے پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے تھے۔

چند روز پہلے ہی حکومت نے ذاکر نائیک کے اس ادارے پر بیرون ملک سے چندہ لینے کی پابندی عائد کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق پابندی لگانے کا یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے رسمی نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

ذاکر نائیک کا ادارہ ممبئی میں واقع ہے اور وہ اپنی تبلیغی سرگرمیاں وہیں سے انجام دیتے تھے۔ اس سے قبل مہاراشٹر کی حکومت اور مرکزی وزارت داخلہ نے ذاکر نائیک کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

خبروں کے مطابق وزارت داخلہ کو تحقیق کے دوران معلوم چلا تھا کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن نامی ادارے کے بین الاقوامی اسلامی چینل 'پیس ٹی وی' سے مبینہ طور پر تعلقات ہیں۔ انڈیا میں پیس ٹی وی پر بھی کئی طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

انڈین وزارت داخلہ کے مطابق ذاکر نائیک نے مبینہ طور پر کئی اشتعال انگیز تقریریں کی ہیں۔

پہلی بار جب ذاکر نائیک پر ایسے الزامات لگے تو وہ ملک سے باہر تھے اور اس وقت سے وہ انڈیا واپس نہیں آئے ہیں۔

ذاکر نائیک سے متعلق تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر کی جانے لگیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔

اطلاعات کے مطابق کچھ حملہ آور ذاکر نائیک کو سنا کرتے تھے۔ ڈھاکہ حملے میں حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس طرح کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی تبلیغ سے کسی بھی طرح کی شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا کوئی بھی ایسا ایک بھی خطاب نہیں ہے جس میں انھوں نے کسی معصوم کی جان لینے کی بات کہی ہو، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں