کابل میں خود کش حملے میں چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان سکیورٹی اہلکار دھماکے کے بعد چوکس کھڑے ہیں (فائل فوٹو)

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک موٹر سائیکل سوار خود کش بمبار نے بدھ کو سرکاری سکیورٹی فورسز کو لے جانے والی ایک منی بس کو نشانہ بنانے کی جس میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر قبول کر لی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں چار عام شہری اور دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر تیرہ افراذ زخمی ہوئے جن میں پانچ کا تعلق سرکاری سکیورٹی ایجنسی سے ہے۔

وسیع کابل شاہراہ پر ہونے والے اس دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے کر شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ دھماکے میں ایک منی بس اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تھا جنہیں فوری طور پر جائے وقوعہ سے ہٹا دیا گیا۔

ایک افغان سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ خود کش بمبار نے اس منی بس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس میں اعلیٰ شخصیات اور انتہائی حساس تنصیبات کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکار سوار تھے۔

اس ایجنسی کے خلاف اس سال ہونے والا یہ دوسرا حملہ تھا۔ اس سال اپریل میں طالبان کے خودکش بمبار اور بندوق برداروں نے کابل میں اس ایجنسی کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا تھا۔

دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے بدھ کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری ایک پیغام میں قبول کی جو شدت پسندوں کی ایک ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔ T

اسی بارے میں