کیرالہ میں کتے مار مہم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم

کتے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاست کیرالہ میں رواں سال کتوں کے کاٹنے کے سات سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں

انڈیا کی سپریم کورٹ نے جنوبی ریاست کیرالہ کی حکومت کو آوارہ کتوں کو مارنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

ریاست میں دو عمر رسیدہ افراد کی کتے کے کانٹے سے موت واقع ہو گئی تھی جس کے بعد آوارہ کتوں کو مارنے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

نوجوان سیاسی کارکنان جانوروں کو مار رہے تھے اور ایسا کرنے والوں کو بھی انعامات دیے جا رہے تھے لیکن ملک کی عدالت عظمٰی نے فیصلہ سنایا ہے کہ کتے بھی خدائی مخلوق ہیں اور ان کا صفایا قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

گذشتہ ماہ کیرالہ کانگریس (مانی) کے یوتھ ونگ نے ایک درجن کے قریب کتوں کو مار کر کوٹیم میونسپل دفتر کے باہر لٹکا دیا تاکہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے 'کتوں کی آبادی کو روکنے میں ناکامی پر توجہ مرکوز کروائی جا سکے۔'

ایک اور حالیہ واقعے میں کیلاڑی گاؤں کی کونسل کے 17 ارکان نے 30 کتے مارے۔

کیرالہ میں حکام کی جانب سے کتوں کو بانجھ بنانے کی کوششیں کی گئیں تاہم انھیں اس میں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔

Image caption ایک وزیر کے مطابق کیرالہ میں پانچ لاکھ سے زائد آوارہ کتے موجود ہیں

خیال رہے کہ ریاست کیرالہ میں رواں سال کتوں کے کاٹنے کے سات سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے جواب میں بعض افراد آوارہ کتوں کو مارنے کی مہم چلانے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

ایک وزیر کے مطابق کیرالہ میں پانچ لاکھ سے زائد آوارہ کتے موجود ہیں جس کے باعث کتوں کے کاٹنے کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ جانوروں کی پیدائش کو کنٹرول کرنے پر کام کرے تاکہ گلیوں میں گھومنے والے آوارہ کتوں کی آبادی میں کمی ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں