کابل میں شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ، 27 افراد ہلاک

افغان فوج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق شیعہ مسلک کی مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کابل کی باقر العلوم مسجد میں خودکش دھماکے کے وقت مسجد میں بڑی تعداد میں عبادت گزار جمع تھے۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ آور پیدل تھا اور اس نے مسجد کے اندر عبادت گزاروں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے افغان دارالحکومت کابل میں شیعہ مسجد پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل میں اس سے پہلے بھی شیعہ آبادی کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

گذشتہ ماہ کابل میں ایک مزار پر مسلح حملے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کابل میں حملے کے وقت شیعہ عزادار یوم عاشور کے لیے سخی مزار زیارت پر جمع تھے۔

پیر کو بھی شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب دنیا بھر میں شیعہ پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین کا چہلم منا رہے ہیں۔ اس دن مسلم دنیا کے اکثر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں غم گسار، ساتویں صدی میں امام حسین اور ان کے اقرباء کی شہادت کے 40 دن پورے ہونے پر عزاداری کرتے ہیں۔

اسی بارے میں