بنگلہ دیش: حزبِ اختلاف کے حامی صحافی کو رہا کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمود الرحمان کو اب بھی مختلف مقدمات میں 70 جرائم کے الزامات کا سامنا ہے

بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کے حامی ایک اخبار کے ایڈیٹر، محمود الرحمان، کو ساڑھے تین سال قید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

محمود الرحمان کو اب بھی مختلف مقدمات میں 70 جرائم کے الزامات کا سامنا ہے جن میں وزیراعظم کے بیٹے کے قتل کی سازش اور مذہبی تناؤ میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔

گذشتہ سال بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا کے حوالے سے انھیں جزوی چھوٹ دے دی گئی تھی۔

محمود الرحمان کی گرفتاری کے بعد ملک میں اسلام پسند عناصر اور حزبِ اختلاف کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ گرفتاری سیاسی بنیادوں پر کی گئی تھی۔

63 سالہ محمود الرحمان بنگالی روزنامہ امار دیش کے ایڈیٹر تھے اور انھیں 2013 میں ملک بھر میں حزبِ اختلاف کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے جھوٹے اور توہین آمیز مضامین چھاپے ہیں جن سے ملک میں مذہبی تناؤ پیدا ہوا ہے۔

محمود الرحمان پر برسراقتدار جماعت عوامی لیگ کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے اخبار کا استعمال کرتے ہوئے 1971 کی جنگ میں سرزد کیے گئے جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے بننے والے کمیشن کی مخالفت کی اور ان کے خلاف سیاسی مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی۔

گذشتہ سال انھیں ایک انسدادِ بدعنوانی کمیشن کو اپنے درست مالی گوشوارے جمع نہ کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی جس میں بعد میں کمی کر دی گئی تھی۔

اخبار امار دیش نے مضامین کا ایک سلسلہ شائع کیا تھا جس میں ملک کے سکیولر بلاگرز پر اسلام مخالفت کا الزام لگایا گیا۔

تین ماہ قبل حزبِ اختلاف کے حامی ایک اور جریدے کے معروف ایڈیٹر شفیق الرحمان کو بغاوت کے الزام میں پانچ مہینے تک جیل میں قید گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔