بسکٹ کے ڈبوں میں ’نوزائیدہ بچے‘

بچے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے بے اولاد جوڑوں کو فروخت کیے جاتے تھے

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں بسکٹ کے ڈبوں سے نوزائیدہ بچے ملنے کے بعد پولیس بچوں کی سمگلنگ کے مبینہ واقعات کی تفتیش کر رہی ہے۔

کولکتہ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بدوریا قصبے کے ایک ہسپتال پر چھاپے کے دوران پولیس دو تین دن کی عمر بچے ملے تھے۔ ایک چھ دن کا بچہ ایک دوسرے کمرے سے بھی برآمد ہوا تھا۔

پولیس نے 13 افراد کو گوفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے بے اولاد جوڑوں کو فروخت کیے جاتے تھے۔

سینیئر پولیس اہلکار بی ایل مینا کا کہنا تھا کہ اس ہسپتال میں زیادہ تر ان ماؤں کو نشانہ بنایا جاتا جو اپنا حمل ان بچوں کو خریداری کی پیش کش کرتے ہوئے گرانا چاہتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال لڑکوں کے لیے تین لاکھ روپے اور لڑکیوں کے لیے ایک لاکھ روپے ادا کر رہا تھا جبکہ گوری رنگت والے بچوں کی زیادہ قیمت ادا کی جاتی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض معاملات میں غریب خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی اغوا کر لیا جاتا تھا۔

بی ایل مینا کا کہنا تھا کہ 'جب یہ خواتین بچوں کا مردہ جسم دیکھنے کے لیے کہتیں تو انھیں اس کے خلاف مشورہ دیا جاتا، اور اس طرح بہت سی خواتین دیکھے بغیر واپس لوٹ جاتیں۔ اگر وہ اصرار کرتیں تو انھیں رشوت دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔'

پولیس کا خیال ہے کہ دو سال کے عرصے کے دوران 30 سے زائد بچوں کو دہلی، چینئی اور برطانیہ میں جوڑوں کو فروخت کی گئی۔

پولیس بچوں اور ان کے والدین کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد میں ہسپتال کا مالک اور عملہ شامل ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے آئندہ چند دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں