روہنگیا مسلمانوں سے میانمار کو کیا مسئلہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں روہنگیا مسلمان ایسا اقلیتی برادری ہیں جس پر سب سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے.

آخر روہنگیا کون ہیں؟ ان سے میانمار کو کیا مسئلہ ہے؟ یہ بھاگ کر بنگلہ دیش کیوں جا رہے ہیں؟ انھیں اب تک شہریت کیوں نہیں ملی؟ آنگ سان سوچی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علم بردار کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے یہ ظلم کیوں ہو رہا ہے؟

روہنگیا کون ہیں؟

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں. حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں.

بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں. انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے.

آخر رخائن ریاست میں ہو کیا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میانمار میں موگڈوو سرحد پر نو پولیس افسران کے مارے جانے کے بعد گذشتہ ماہ ریاست رخائن میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا. کچھ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں نے کیا تھا. اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے موگڈوو ضلع کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا اور ایک وسیع آپریشن شروع کر دیا.

روہنگیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے. ميانمار کے فوجیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزام لگ رہے ہیں جن میں تشدد، عصمت دری اور قتل کے الزامات شامل ہیں. تاہم حکومت نے اسے سرے سے مسترد کر دیا ہے. کہا جا رہا ہے کہ فوجی روہنگیا مسلمانوں پر حملے میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر رہے ہیں.

کیا میانمار حکومت اس کے لیے مجرم ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میانمار میں 25 سال بعد گذشتہ سال انتخابات ہوا تھا. اس انتخاب میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کو بھاری کامیابی ملی تھی. تاہم آئینی قوانین کی وجہ سے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی صدر نہیں بن پائی تھیں. تاہم کہا جاتا ہے کہ اصل کمان سو چی کے ہاتھوں میں ہی ہے.

بین الاقوامی سطح پر سو چی نشانے پر ہیں. الزام ہے کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہونے کے باوجود وہ خاموش ہیں. حکومت سے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر رخائن میں صحافیوں کو کیوں نہیں جانے دیا جا رہا؟ صدر کے ترجمان زاو ہنی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کی غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے.

آنگ سان سو چی کیا کر رہی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آنگ سان سو چی ابھی اپنے ملک کی حقیقی لیڈر ہیں. تاہم ملک کی سلامتی آرمڈ فورسز کے ہاتھوں میں ہے. اگر سوچی بین الاقوامی دباؤ میں جھکتی ہیں اور ریاست رخائن کو لے کر کوئی قابل اعتماد انکوائری کراتی ہیں تو انہیں آرمی سے تصادم کا خطرہ اٹھانا پڑ سکتا ہے اور ان کی حکومت خطرے میں آ سکتی ہے.

گذشتہ چھ ہفتوں سے آنگ سان سو چی مکمل طور پر خاموش ہیں. وہ اس معاملے میں صحافیوں سے بات بھی نہیں کر رہیں. جب اس معاملے میں ان پر دباؤ پڑا تو انھوں نے کہا تھا کہ رخائن اسٹیٹ میں جو بھی ہو رہا ہے وہ 'رول آف لا' کے تحت ہے. اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھ رہی ہے. میانمار میں روہنگیا کے بارے میں ہمدردی نہ کے برابر ہے اور روہنگیا کے خلاف آرمی کے اس اقدام کی جم کر حمایت ہو رہی ہے.

بنگلہ دیش کے اعتراض

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بدھ کو میانمار کے سفیر سے اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے. بنگلہ دیش نے کہا کہ پریشان لوگ سرحد پار کر محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں یہاں آ رہے ہیں.

بنگلہ دیش نے کہا کہ سرحد پر نظم و ضبط قابو میں رکھا جانا چاہیے. بنگلہ دیش اتھارٹی کی جانب سے سرحد پار کرنے والوں کو پھر سے میانمار واپس بھیجا جا رہا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے.

بنگلہ دیش روہنگیا مسلمانوں کو پناہ گزین کے طور پر قبول نہیں کر رہا. روہنگیا پناہ گزین 1970 کی دہائی سے ہی میانمار سے بنگلہ دیش آ رہے ہیں. اس ہفتے کے آغاز میں ہیومن رائٹس واچ نے ایک سیٹلائٹ تصویر جاری کی تھی ،جس میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں روہنگیا مسلمانوں کے 1،200 گھر گرا دیے گئے.

اسی بارے میں