انڈیا: جیلوں کی بہتر سکیورٹی ضروری کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کے روز شمالی ریاست پنجاب میں نابھا سنٹرل ہائی سکیورٹی جیل پر پانچ مسلح افراد نے حملہ کیا

ایک ہی ماہ میں دو اہم جیلوں میں قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات کے بعد انڈیا میں جیلوں کی سکیورٹی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ملک میں جیلوں میں عملے کی کمی اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے نامہ نگار وینت کھرے نے اس معاملے کا جائزہ لیا:

اتوار کے روز شمالی ریاست پنجاب میں نابھا سنٹرل ہائی سکیورٹی جیل پر پانچ مسلح افراد نے حملہ کیا اور چھ قیدیوں کو فرار کرا کے لے گئے۔ فرار ہونے والوں میں سے ایک علیحدگی پسند سکھ رہنما تھے جنھیں پیر کے روز دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

یہ ایک شرمناک حملہ تھا۔ حملہ آور پولیس کی وردیوں میں ملبوس کسی قیدی کو جیل پہنچانے کے بہانے وہاں آئے اور جیل کا گیٹ کھلتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فرار ہونے والے قیدیوں کے ہمراہ وہ گاڑیوں کے قافلے میں بھاگ گئے۔

ریٹائرڈ پولیس افسر پرکاش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ایسا تب ہوتا ہے جب جیل کے عملے کی توجہ کسی اور جانب ہو یا انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو۔‘

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں جیل توڑ کر بھاگنے کے چالیس 40 واقعات میں 180 سے زیادہ قیدی فرار ہوئے ہیں۔

گذشتہ سال دو قیدی دارالحکومت دلی کی معروف تہاڑ جیل سے دیوار کے نیچے ایک سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

گذشتہ ماہ بھوپال شہر سے ایک ہائی سکیورٹی جیل سے آٹھ قیدی فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم اسلامی شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے والے ان قیدیوں کو اس وقت شہر کے باہر ہلاک کر دیا گیا جب انھوں نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قیدی بیڈ شیٹوں کی مدد سے دیواریں پھلانگنے میں کامیاب ہوئے۔

پولیس کے موقف پر اس وقت سوال اٹھائے گئے جب کالعدم تنظیم سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا نے ان قیدیوں کی ہلاکت کی غیر تصدیق شدہ ویڈیو جاری کر دی۔ یہ معاملہ اب زیرِ تفتیش ہے۔

انڈیا میں جیلوں میں عملے کی کمی اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھوپال شہر سے اس ہائی سکیورٹی جیل سے آٹھ قیدی فرار ہوگئے

انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ملک میں 1401 جیلوں میں 420000 قیدی موجود ہیں جبکہ ان کی گنجائش 366781 ہے۔

جیل کے محافظوں اور اہلکاروں کے عہدوں میں سے ایک تہائی پر کوئی بھی تعینات نہیں ہے۔ تہار جیل میں اہلکاروں کے آدھے عہدے خالی پڑے ہیں۔

قیدی ہی ’سب کچھ‘ کرتے ہیں۔

’ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی جیلوں میں قید تقریباً دو تہائی قیدیوں کے مقدمات کی سماعت جاری ہے جو کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بھوپال میں جیل توڑنے کے واقعے کو قیدیوں کے وکلا نے قتل قرار دیا۔ اس واقعے کی وجہ سے انڈیا میں جیلوں کے مسائل ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آ گئے۔

اس جیل میں 1400 قیدیوں کی گنجائش ہے مگر وہاں 3000 قیدی رکھے گئے ہیں۔

بھوپال ریاست مدھیا پردیش میں ہے۔ مدھیا پردیش میں جیلوں کے توڑے جانے کی ایک تاریخ بھی موجود ہے۔

2011 میں دبرا جیل میں نو قیدیوں نے جیل کے عملے کی چائے میں کچھ ملایا اور بھاگ گئے۔

2013 میں خاندوا جیل سے پانچ قیدی باتھ روم کی کھڑکی کے ذریعے فرار ہوگئے۔

ریٹائرڈ افسران کا کہنا ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کر رہا۔ ریٹائرڈ جیل اہلکار جی کے اگروال نے بھوپال میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری جیلیں تباہ ہو رہی ہیں۔‘ انھوں نے اعلیٰ افسران کو ہاتھ سے لکھے ہوئے متعدد خطوط بھی دکھائے جن میں وہ اصلاحات کی استدعا کر رہے تھے۔

دو سال قبل انھوں نے اعلیٰ حکام کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ بھوپال جیل میں ’کسی بڑے حادثے‘ کا خطرہ ہے کیونکہ اس کے ’ڈھانچے میں کمزوریاں ہیں، عملے کی حالت بری اور سکیورٹی انتہائی کم ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس باوجود کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر سدھارت گپتا نے ’عدالت کے باہر نقصِ امن‘ کے جرم میں جیل میں دو راتیں گزاریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر محافظوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر قیدی ہی سب کچھ کرتے ہیں جس میں کھانا پکانے سے لے کر قیدیوں کی گنتی کرنا تک شامل ہے۔

اصلاحات کے دباؤ کے نتیجے میں مدھیا پردیش میں جیلوں کے سربراہ سنجے چوہدری نے ’تیزی سے جدت‘ لانے کا وعدہ کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہم سکیورٹی بڑھا رہے ہیں، عملے میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک ہائی سکیورٹی زون بھی بنا رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں