دہشتگردی اور بات چیت ساتھ ساتھ جاری نہیں رہ سکتے: انڈیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ اس سال جنوری میں پٹھانکوٹ کی ائر بیس پر حملے کے بعد سے معطل ہے۔

انڈیا نے کہا ہے کہ سرحد پار پاکستان سے ہونے والی دہشتگردی کو معمول کی کارروائی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

انڈیا میں حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران کسی دو طرفہ ملاقات کے لیے پاکستان سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے دلی میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ جاری نہیں رہ سکتے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب کسی باہمی ملاقات کا امکان بہت کم ہے۔

خارجہ امور پر وزیر اعظم پاکستان کے مشیر سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے اتوار کو امرتسر آنے والے ہیں۔

دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط نے بھی بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی جانب سے دو طرفہ بات چیت کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی ہے لیکن ’اگر انڈیا کی جانب سے کوئی مثبت تجویز آتی ہے تو اس کا مثبت جواب دیا جائے گا۔‘

وکاس سوروپ نے کہا کہ ’انڈیا ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہا ہے لیکن صاف ظاہر ہے کہ بات چیت دہشت گردی کے ماحول میں نہیں ہو سکتی۔ میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ انڈیا کبھی بھی دہشتگردی کو معمول کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے نگروٹہ علاقے میں فوج کے ایک کیمپ پر حالیہ حملہ ’سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کی ایک اور مثال ہے۔‘ اس حملے میں دو افسران سمیت سات بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے لیے سرتاج عزیز سے بات نہیں کی جانی چاہیے، انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمارے خیال میں سرحد پار سے مسلسل ہونے والی دہشتگردی کی وجہ سے ہی باہمی رشتے اس نہج پر پہنچے ہیں، جتنی جلدی پاکستان دہشت گردی کی اعانت ختم کرے گا، اتنی جلدی تعلقات بحال ہوسکتے ہیں۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ اس سال جنوری میں پٹھانکوٹ کے ائر بیس پر حملے کے بعد سے معطل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں