چین میں ایک شخص پھانسی کے 21 سال بعد بے گناہ ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کی سپریم کورٹ نے مقدمے میں پیش کیے جانے والے ثبوتوں کو ناکافی اور مبہم قرار دیا

چین میں سپریم کورٹ نے ایک شخص کو ریپ اور قتل کے جرم میں دی جانے والی موت کی سزا پر عمل درآمد کے 21 برس بعد بے قصور قرار دے دیا۔

1995 میں چین کے صوبہ ہیبئی کے دارالحکومت شیجیاژوانگ میں 20 سالہ نیئا شیبن نامی شخص پر ایک عورت کا قتل ثابت ہونے پر انھیں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔

اب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ نیئا شیبن کے مقدمے میں جو حقائق فراہم کیے گئے تھے وہ مبہم اور ناکافی تھے۔

نیئا شیبن کا خاندان گذشتہ 20 برس سے انھیں بے قصور قرار دینے کے لیے مہم چلا رہا تھا اور اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے حامیوں کا شکریہ کیا ہے۔

11 برس پہلے ایک اور شخص نے کہا تھا کہ اس نے یہ جرم کیا تھا لیکن ان کے دعوے کو مسترد کر دیا گیا۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سدورتھ کے مطابق چین میں نیئا شیبن کا کیس کافی مقبول ہے۔

چینی عدالت میں کسی مقدمے میں قصور وار قرار دینے کی شرح 99 فیصد ہے۔

چین میں پھانسی پر لٹکائے جانے والے افراد کی تعداد ایک قومی راز ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ہر برس سینکڑوں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

چین میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملزم کو تشدد اور زبردستی کے ذریعے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چین میں شاذو نادر ہی سنائی جانے والی سزاؤں کو تبدیل کیا جاتا ہے۔

2014 میں چین کے خودمختار علاقے منگولیا میں ایک نوجوان کو ریپ اور قتل کے جرم میں پھانسی دیے جانے کے 18 برس بعد الزامات سے بری کر دیا گیا۔

عدالت کی جانب سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے نوجوان کے والدین کو معاوضے کے طور پر 30 ہزار یوآن دیے گئے تھے اور ان کے مقدمے کی سماعت میں شامل 27 افسران کو بعد میں سزا دی گئی۔

اس کے بعد حکومت کی جانب کی 20 لاکھ زرتلافی کے طور پر ادا کیے گئے۔

اسی بارے میں