’انڈین خاندان کے 20 کھرب روپے کے غیر قانونی اثاثے‘

روپے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرکزی حکومت نے سنہ 2016-17 کے بجٹ میں انکم ڈكلیئریشن سکیم (آئي ڈی ایس) یا آمدنی کے اعلان کی سکیم کا اعلان کیا تھا

انڈیا کے معروف شہر ممبئی میں ایک فیملی نے 20 کھرب روپے کے غیر قانونی اثاثے ظاہر کیے ہیں جس کے بعد مرکزی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ اثاثے آمدن کے اعلان کی سکیم کے تحت کیا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی اپنی پہلے سے غیر اندراج شدہ آمدن یا اثاثوں کو ظاہر کرتا ہے تو اس کو ٹیکس، سرچارج اور جرمانے وغیرہ کے تحت آمدنی کا 45 فیصد حکومت کو دینا ہو گا جبکہ بقیہ 55 فیصد آمدنی پر اعلان کرنے والے شخص کا اختیار ہوگا جو کہ مکمل طور پر جائز پیسہ تصور ہوگا۔

* اس منصوبے کو راز رکھنا ضروری تھا: مودی

* 'کل بیٹی کی شادی ہے اور ہاتھ میں پیسہ نہیں'

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے سنہ 2016-17 کے بجٹ میں انکم ڈكلیئریشن سکیم (آئی ڈی ایس) یا آمدنی کے اعلان کی سکیم کا انتظام کیا تھا جس کے تحت سعید خاندان کی جانب سے یہ اعلان سامنے آيا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس خاندان کے ذریعے کیا جانے والا اعلان ’مشتبہ‘ ہے کیونکہ اس کنبے کی آمدنی کے وسائل محدود ہیں۔

اس سکیم کے تحت آمدنی کے شمارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر تھی اور اس کے تحت، سعید خاندان کے علاوہ، کل 71،726 لوگوں کے ذریعہ 67،382 کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدن کے شمارے جمع کیے گئے تھے۔

اسی سکیم کے تحت دو اعلانات ایسے تھے جن میں اتنی بڑی رقم کا ذکر تھا کہ حکومت نے انھیں مشتبہ مانتے ہوئے ان اعلانات کو خارج کر دیا۔

ممبئی کے باندرہ علاقے میں رہنے والے چار ارکان پر مشتمل سعید خاندان نے کل دو لاکھ کروڑ روپے کی آمدن یا اثاثوں کا اعلان کیا۔

اس خاندان میں عبدالرزاق محمد سعید، بیٹے محمد عارف، عبدالرزاق کی اہلیہ رخسانہ سعید اور بیٹی نور جہاں محمد سعید ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مہیش پٹیل اپنی آمدن کے اعلان کے بعد غائب رہے اور جب سامنے آئے تو انھیں حراست میں لیا گیا اور اب ان سے پوچھ گچھ ہونی ہے

اس خاندان کے تین ارکان کے پین کارڈ راجستھان کے شہر اجمیر کے پتے پر بنے تھے اور رواں سال ستمبر کے مہینے میں ہی یہ لوگ ممبئی آئے جہاں انھوں نے یہ اعلانات کیے۔

دوسرا معاملہ احمد آباد کے بزنس مین مہیش شاہ کا ہے جنھوں نے کل 13،860 کروڑ روپے کی آمدن کا اعلان کیا تھا۔

حکومت ان دونوں معاملات کے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔

حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ان دونوں معاملات کی تحقیقات کے بعد انکم ٹیکس محکمے نے 30 نومبر کو ان اعلانات کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کی تحقیقات ہو رہی ہے۔

مہیش شاہ نے جب سے اعلان کیا اس کے بعد سے ہی لاپتہ تھے۔ بعد میں جب مہیش شاہ سامنے تو انھوں نے بتایا کہ یہ پیسہ صرف ان کا نہیں ہے بلکہ سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور بلڈرز کا ہے۔

مہیش شاہ کو حراست میں لے لیا گيا تھا اور اب ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں