انڈیا: مسلمانوں کی کوئی عزت ہی نہیں؟

روپے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا میں آمدنی کے اعلان کی سکیم کے بعد دو دلچسپ معاملے سامنے آئے ہیں

انڈیا میں مسلمانوں کی پرانی شکایت ہے کہ حکومت ان پر اعتبار نہیں کرتی، انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے خلاف کرکٹ کا میچ ہو یا پھر کالا دھن ڈکلیئر کرنے کی سکیم، زندگی کے ہر موڑ پر انھیں اپنی حب الوطنی اور وفاداری کا سرٹفیکیٹ دکھانا پڑتا ہے۔

لیکن حکومتوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں، ایک ہی جھٹکے میں سب کو خاموش کرنے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔ حکومتیں نہ ہندو مسلمان میں فرق کرتی ہیں اور نہ غریب کی پریشانی دیکھ سکتی ہیں۔

چند ماہ قبل حکومت نے کالے دھن کو بینکنگ کے نظام میں لانے کے لیے ایک عام معافی کا اعلان کیا تھا، اپنا کالا دھن ڈکلئر کیجیے، 45 فیصد ٹیکس ادا کیجیے، اور چین کی بانسری بجائیے۔

٭ انڈیا: ایک فیملی کی جانب سے دو لاکھ کروڑ روپے آمدن کا اعلان

* 'کل بیٹی کی شادی ہے اور ہاتھ میں پیسہ نہیں'

یہ سکیم 30 ستمبر کو ختم ہوئی اور تقریباً 71 ہزار لوگوں نے اس سے استفادہ کیا۔ 67 ہزار کروڑ روپے کے ناجائز اثاثے ڈکلیئر کیے گئے لیکن دو بے چارے غریبوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا۔

ایک سعید خاندان ہے جس کا بنیادی طور پر تعلق اجمیر سے بتایا جارہا ہے،۔اور دوسرے صاحب ہیں گجرات کے مہیش شاہ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں۔

مہیش شاہ نے ہوش ربا 13800 کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی ڈکلیئر کی تھی لیکن سعید صاحب کی فیملی تو زیادہ ہی جذباتی ہوگئی۔ انھوں نے دو لاکھ کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی کا انکشاف کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مہیش شرما کے علاوہ سعید خاندان کے ڈکلیئریشن کو مسترد کر دیا گيا ہے

یہ رقم کتنی ہوتی ہے آپ کو شاید اندازہ ہوگا۔ اگر نہ ہوتو یوں سمجھ لیجیے کہ انڈیا کا سالانہ دفاعی بجٹ بس تقریباً اسی رینج میں ہوتا ہے!

لیکن حکومت نے دونوں کے انکشافات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ معمولی حیثیت کے لوگ ہیں! اب آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان اگر اپنی چوری کا بھی اعتراف کرے تو حکومت اس پر اعتبار نہیں کرتی، اور حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتی۔ اس نے مہیش شاہ اور عبدالرزاق محمد سعید دونوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔

لیکن آپ شاید کہیں گے کہ اس سے بھی گہرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ امیر اور غریب میں فرق کرتی ہے؟ اگر کسی ٹاٹا، برلا یا امبانی نے یہ اعلان کیا ہوتا تو کیا کوئی کہتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟ فوراً ان کی بات پر یقین کر لیا جاتا۔ حکومت اپنی پیٹھ تھپتھپاتی اور ڈکلیئر کرنے والا سینا ٹھوک کر کہتا کہ وہ قوم کی تعمیر نو میں اپنا یودگان (تعاون) دے رہا ہے۔

مہیش شاہ کا دعویٰ ہے کہ جس رقم کا انھوں نے انکشاف کیا ہے وہ ان کی نہیں ہے اور اس کیس میں اب بہت سے دلچسپ انکشافات ہو سکتے ہیں۔ یہ پیسہ ان کا نہیں ہے تو کس کا ہے اور ہے بھی کہ نہیں؟ کیا اس میں کچھ سیاستدانوں کا بھی حصہ ہے اور اگر ہے تو کیا اسے قوم کی تعمیر میں ان کا یوگدان مانا جاسکتا ہے؟

اور یہ سعید صاحب کون ہیں؟ ان کی کہانی کیا ہے، یہ پیسہ اگر واقعی ہے تو کس کا ہے؟ اگر ان کا ہے تو کہاں سے آیا۔ وہ ایسا کیا کاروبار کرتے ہیں جس سے انھیں دو لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوگئی اور انکم ٹیکس والوں کو کان و کان خبر نہ ہوئی؟

اس معمے کی پرتیں ابھی کھلنا باقی ہیں، اگر آمدنی تھی ہی نہیں تو ڈکلیئر کیوں کی گئی اور اگر ہے تو حکومت مان کیوں نہیں رہی؟

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں