بنگلہ دیش: کالعدم تنظیم کے تین رہنماؤں کی سزائے موت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ FARZAN KHAN GODHULY
Image caption بنگلہ دیش کی عدالتی تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ عدالت نے نظرثانی کی اپیل پر مختلف فیصلہ دیا ہو

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز حرکت الجہاد الاسلامی نامی کالعدم تنظیم کے سربراہ مفتی عبدالہنان اور ان کے دو ساتھیوں کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

٭ بنگلہ دیش میں گیارہ ’شدت پسند` ہلاک

خیال رہے کہ ان افراد پر سنہ 2004 میں شمال مشرقی شہر سِلٹ میں برطانوی سفیر پر حملہ کرنے اور تین دیگر افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس کے سنہا نے عدالتی فیصلہ سناتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کیا۔

خیال رہے کہ حرکت الجہاد نامی کالعدم تنظیم کے سربراہ مفتی عبدالہنان اور ان کے دو ساتھیوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ کے اندر کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے۔

ریاست کی جانب سے مقرر کیے جانے والے وکیلِ صفائی محمد علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ ہم اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کریں گے۔‘

یاد رہے کہ ان تینوں افراد کو سنہ 2008 میں مئی 2004 میں ہونے والے حملے اور ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس حملے میں بنگلہ دیش میں تعینات برٹش ہائی کمشنر انور چوہدری زخمی ہو گئے تھے۔

یہ حملہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی سفیر کی تعیناتی کے کچھ ہی ہفتوں بعد اس وقت ہوا جب وہ شمال مشرقی شہر سِلٹ میں ایک صوفی مزار کا دورہ کر رہے تھے۔

اس حملے میں تین زائرین ہلاک ہو گئے تھے اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔

برطانوی ہائی کمیشن نے اس عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے تاہم سزائے موت کے فیصلے کی مخالفت کی ہے جو کہ برطانیہ میں ممنوع ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم تنیظم کی جانب سے یہ حملہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے عراق اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی ہلاکتوں سے بدلہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔

حرکت الجہاد نامی کالعدم تنظیم سنہ 1992 میں بنی تھی۔ اس کے اراکین نے سویت فوجوں کے خلاف افغانستان کی جنگ میں بھی شرکت کی تھی۔

اس تنظیم نے احمدیہ مسلمانوں کی مساجد، عیسائی برادی کے گرجا گھروں اور سیکیولر افراد اور گرہوں کی ریلیوں پر حملے بھی کیے ہیں۔

16 کروڑ سے زائد آبادی کے ملک بنگلہ دیش میں یہ تنظیم ایک خطرناک گروہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں اس کی کمان مفتی عبدالہنان نے سنھبالی تھی۔

ملک کے ڈپٹی اٹارنی جنرل شیخ منیر زمان کبیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ مفتی عبدالہنان 80 کی دہائی کے دوران پاکستان کے شہر کراچی کے ایک مدرسے میں زیرِتعلیم رہے مگر پھر افغان جہاد میں شرکت کے لیے چلے گئے، بعد میں وہ واپس لوٹ کر بنگلہ دیش آئے اور ایک مدرسے کی سربراہی کی مگر پھر اسے چھوڑ کر حرکت الجہاد میں شمولیت اختیارکرلی۔

مفتی الہنان پر سنہ 2004 میں ڈھاکہ میں موجود وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی جانب سے نکالی جانے والی ایک ریلی پر گرنیڈ حملہ کرنے کا الزام بھی ہے۔

اس حملے میں شیخ حسینہ زخمی ہوئی تھیں جبکہ 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان پر سنہ 2001 میں بنگلہ دیش میں نئے سال کی آمد کے موقع پر ہونے والے فیسٹول پر حملے کا الزام بھی ہے جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں