راہول گاندھی: 'نریندر مودی نوٹ پر پابندی پر بحث سے خوفزدہ ہیں'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption راہول گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نریندرمودی نوٹ پر پابندی کے تعلق سے ایوان میں بحث نہیں کرنا چاہتے

انڈيا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے موجودہ حکومت کی جانب سے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیا ہے۔

جمعے کو راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کرنسی کے معاملے پر پارلیمان میں ہونے والی بحث میں حصہ لینے سے خوفزدہ ہیں۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ 'حکومت مجھے بولنے سے روک رہی ہے۔ انھیں پتہ ہے کہ اگر وہ مجھے بولنے دیں گے تو حقیقت سامنے آجائے گی۔ ملک میں زلزلہ آ جائے گا۔ میں بتاؤں گا کہ یہ کس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔'

حکومت نے آٹھ نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کا فیصلے کیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایوان کی کارروائی اسی تنازع کی وجہ آگے نہیں بڑھ سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption س تعطل کےدرمیان پورے ملک میں اب بھی بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر روپے نکالنے کے لیے روزآنہ لوگوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں

حزب اختلاف کی جماعتیں نہ صرف وزیر اعظم مودی سے اس پر بیان دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں بلکہ وہ تحریک التوا کے ضابطے کے قانون کے مطابق بحث چاہتی ہے جس میں بحث کے بعد ووٹنگ ہوتی ہے۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس مخصوص قانون کے تحت بحث نہیں چاہتی۔

راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم پورے ملک میں نوٹ پر پابندی کے حوالے سے تقریریں کر رہے ہیں لیکن وہ ایوان میں نہیں بولنا چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ 'اتنی گھبراہٹ کیوں ہے۔ ایوان میں آ کر بولیے۔ پورا ملک جو محسوس کر رہا ہے ہم وہ بات کریں گے۔'

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینيئر رہنما وینکیا نائیڈو نے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف دانستہ طور پر پارلیمان کی کارروائی میں رخنے ڈال رہی ہے۔

انڈیا میں اب بھی بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر روپے نکالنے کے لیے روزآنہ لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ پر پابندی لگنے کے بعد اب تک پرانی کرنسی کے ساڑھے گیارہ لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں جمع ہو چکے ہیں۔ تقریبآ چودہ لاکھ کروڑ روپے مالیت کے نوٹ ابھی بھی گردش میں ہیں۔

نوٹوں پر پابندی کا اعلان کرتے وقت مودی نے کہا تھا کہ اس کا مقصد کالے دھن کو ختم کرنا ہے اور اس قدم سے بڑی تعداد میں زیر گردش جعلی نوٹوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور دہشت گردی کی مالی مدد بند ہو جائے گی۔

راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ حکوت نے پہلے کالے دھن کی بات کی، پھر جعلی نوٹوں اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کی بات کی۔ اب وہ 'کیش لیس' اکونومی کی بات کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں